منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

ایم ایم آر ویکسین کووڈ 19 کے اثرات کی روک تھام کیلئے ممکنہ طور پر مددگار  طبی جریدے جرنل ایم بائیو میں شائع تحقیق میں اہم انکشاف

datetime 6  جولائی  2020 |

واشنگٹن(این این آئی )ابھی تک نئے کورونا وائرس کی روک تھام ابھی تک کوئی ویکسین تیار نہیں ہوسکتی ہے اور اس حوالے سے دنیا بھر میں کام ہورہا ہے.مگر ایسے شواہد مسلسل سامنے آرہے ہیں کہ اس وقت موجود ویکسینز کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے حوالے سے فائدہ مند ہوسکتی ہیں، حالانکہ وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوئیں۔دنیا کے مختلف ممالک میں ٹی بی کی روک تھام کے لیے

استعمال ہونے والی بی سی جی ویکسین پر کلینیکل ٹرائلز ہورہے ہیں کیونکہ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کووڈ 19 کی روک تھام کے حوالے سے موثر ثابت ہوکتی ہے۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بی سی جی ویکسین لوگوں کے مدافعتی ردعمل کو مضبوط کرسکتی ہے، نئے کورونا وائرس کے اثرات کو کم اور کووڈ 19 سے جڑی علامات یا مسائل کا خطرہ کم کرسکتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق طبی جریدے جرنل ایم بائیو میں شائع ایک تحقیق میں عندیہ دیا گیا کہ ایم ایم آر (خسرہ، کن پیڑے،روبیلا یا جرمن خسرہ) ویکسین بھی ٹی بی کی ویکسین جیسے اثرات کی حامل ہوسکتی ہے۔یہ ویکسین دنیا بھر میں بچوں کو عام استعمال کرائی جاتی ہے اور تحقیق میں عندیہ دیا گیا کہ اس کے نتیجے میں کووڈ 19 کے مریضوں میں شدید ترین ورم اور اموات کا خطرہ کم ہوسکتا ہے جبکہ طبی عملے میں اس کے کلینیکل ٹرائل کی تجویز دی گئی۔اس طرح کی ویکسین میں حقیقی وائرس یا بیکٹریا ہوتے ہیں جن کو سائنسدان لیبارٹری میں کمزور بناتے ہیں۔تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ اس طرح کی ویکسینز مدافعتی نظام کی تربیت کرکے دیگر بیماریوں سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔یہ ویکسینز غیر روایتی مدافعتی ردعمل میں مدد فراہم کرتی ہیں اور بیماری کے خلاف اولین دفاعی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔طبی ماہرین نے چوہوں پر تجربات میں ثابت کیا کہ یہ خلیات کسی بیماری سے ورم اور اموات کا خطرہ کم کرتے ہیں جبکہ اس نئی تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا کہ اس طرح کی ویکسینز سے عفونت کے مرض سے بھی ایم ڈی ایس سی کی بدولت ممکنہ تحفظ مل سکتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ ایک ایم ایم آر ویکسین کووڈ 19 کے شکار افراد میں ایم ڈی ایس سی خلیات کو شامل کرکے پھیپھڑوں کے ورم اور عفونت سے لڑنے میں مدد فراہم کرسکتی ہے جو اس بیماری کے سنگین کیسسز میں عام مسائل ہیں۔اس کے ثبوت کے طور پر انہوں نے یو ایس ایس روزویلٹ کے 955 ملاحوں کو ٹیسٹ کیس کے طور پر پیش کیا جن میں کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی مگر اس کی شدت معتدل تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…