بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

دواؤں کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافہ ہوا تو وزیراعظم نے نوٹس لیا قیمت میں 500 فیصد اضافہ ہوگیا،آٹے چینی اور ماسک کا نوٹس لیا تو ان کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں ، وزیراعظم کسی چیز کا نوٹس نہ لیں بس خود کو قرنطینہ میں رکھیں

datetime 29  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن ) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ہمارے وزیراعظم کے پاس دو ہی آپشن ہیں، وہ ایوان سے معافی مانگیں یا استعفیٰ دیں اورگھر چلے جائیں، حکومت کا یہ بجٹ ہر لحاظ سے فیل ہوچکا ہے۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہم نے بجٹ پر کافی طویل تقریریں کی ہیں۔

ملکی موجودہ صورتحال پروزیراعظم کے پاس صرف2 آپشن ہیں ، وزیراعظم اس ہاؤس سے معافی مانگیں کہ غلطی ہوئی ہے یا ملک کی موجودہ صورتحال پر وزیراعظم استعفیٰ دیں۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دیں اور اورگھر چلے جائیں، وزیراعظم کا عہدہ کسی قابل شخص کو عہدہ دیا جائے، بجٹ تقریر میں کہا گیا پیٹرولیم قیمتوں میں کمی سے 42ارب کا ریلیف ملےگا ، بجٹ منظور ہونے سے قبل ہی عوام پر پیڑول بم گرایا گیا ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کی جیبوں پرڈاکہ ڈالا گیا۔چیئرمین پی پی نے کہا اوگرا نے جو نوٹی فکیشن جاری کرنا تھا وہ کوئی وزیر کیسے کر سکتا ہے، پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کاتمام فائدہ آئل کمپنیوں کو پہنچا، یہ واپس اپنے حلقوں میں کیسے جائیں گے ،عوام کو کیا منہ دکھائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے فیصلے کو فورم پر چیلنج کریں گے، یہ عوام کی جیب سے پیسے نکال کر آئل کمپنیوں کو منافع دے رہے ہیں، دواؤں کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافہ ہوا تو وزیراعظم نے نوٹس لیا، اب دواؤں کی قیمت میں 500 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم نے آٹے چینی اور ماسک کا نوٹس لیا تو ان کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں ، وزیراعظم کسی چیز کا نوٹس نہ لیں خود کو قرنطینہ میں رکھیں۔

کوئی جعلی ڈگری کو سپورٹ نہیں کرے گا،ا پنے پائلٹس، سول ایوی ایشن کی عالمی سطح پر کردار کشی کرتے ہیں، کوئی کمزوری ہوتو اسکا حل نکال سکتے ہیں۔پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ حکومت سمجھتی ہے جس کو بھی نوکری ملتی ہے وہ سیاسی ہے، لوگوں کو بے روزگار کرنا کس قسم کا ریلیف ہے، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنا ظلم ہی ہوتا ہے، حکومت کی کورونا کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں ، یہ نالائق اور نااہل ہیں کام نہیں کر سکتے۔انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کا یہ بجٹ ہر لحاظ سے فیل ہوچکا ہے ، یہ بجٹ کورونا اور نہ زراعت کے خطرے کا مقابلہ کرتا ہے ، حکومت نے ہر پاکستانی کے جیب پر ڈاکہ ڈالا ہے ، جس جس پر کرپشن کا الزام لگا وہ سب باعزت بری ہوئے، جب ہم باعزت بری ہوں گے توان کے لوگ جیل میں ہوں گے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ راجہ پرویزاشرف سے معافی مانگیں جس کی کردار کشی کی گئی، جہانگیر ترین لندن میں مزے اڑا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…