ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

”مودی نے گھٹنے ٹیک دیے“ بھارتی جنرل اپنے ہی وزیر اعظم کے خلاف پھٹ پڑے

datetime 20  جون‬‮  2020 |

نئی دہلی (این این آئی)لداخ میں چین کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے ملک کے ریٹائرڈ فوجی افسران، سیاست دانوں اور عوام کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے لداخ میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق وضاحت کیلئے بیان جاری کیا تھا کہ چین گلوان وادی میں داخل نہیں ہوا اور نہ ہی بھارت کی کسی چوکی پر قبضہ ہوا۔

تاہم اس کے بعد بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر مودی کے اس بیان کو حزب اختلاف کے سیاست دانوں، بھارتی فوج کے سابق اعلیٰ افسران اور عام شہریوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ModiSurrendersGalwanValley# (مودی نے گلوان وادی میں شکست تسلیم کرلی) کا ہیش ٹیگ سے ٹرینڈ چلایا گیا جو ٹوئٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے بھی اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ وزیر اعظم چینی جارحیت کے خلاف اپنے علاقوں سے دست بردار ہوگئے۔ اگر زمین چینیوں تھی تو ہمارے فوجی کیوں مارے گئے؟ وہ کہاں مارے گئے۔ واضح رہے کہ 2013 میں لداخ میں دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے آنے کے بعد مودی نے اپنی انتخابی مہم میں اس وقت کی کانگریسی حکومت کو رگیدا تھا اور چین کو سبق سکھانے جیسے بلند و بانگ دعوے کیے تھے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی فوج کے متعدد سابق اعلیٰ افسران نے بھی گلوان وادی میں بھارت کو ہونے والی ہزیمیت پر غصے اور مایوسی کا اظہار کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں کور کمانڈر اور بھارت کی جنوبی کمانڈ کے کمانڈر رہنے والے لیفٹیننٹ جنرل رامیشور رائے نے نریندر مودی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ”آج انتہائی بدقسمت دن ہے۔ میں شکر ادا کرتا ہوں کے ریٹائرڈ ہوگیا اور میرا بیٹا فوج میں نہیں ہے۔“رامیشور رائے کا کہنا تھا

کہ اپنی زندگی کی چار دہائیاں اس ملک سرحدوں کی حفاظت پر صرف کیں اور آج یہ دن دیکھنا پڑرپا ہے کہ بھارت نے چین کی جانب سے مشرقی لداخ ایل اے سی میں کی گئی تبدیلیاں تسلیم کرلی گئی ہیں۔ آج کا دن ہر (بھارتی) فوجی کے لیے افسوس کا دن ہے۔ جنرل رامیشور کے اس بیان کو ٹوئٹر پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا لیکن متعدد سابق فوجی افسران نے ان کی حمایت کی۔بھارت کے ریٹائرڈ فوجی افسروں کی تنظیم کے چیئرمین میجر جنرل ستبیر

سنگھ نے جنرل رامیشور کی ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنرل رائے نے پھر بھی نرم الفاظ استعمال کیے ہیں۔ وزیر اعظم کے بیان نے مجھے وحشت زدہ کردیا ہے کہ اس سرحد پر دفاع کے لیے ساز و سامان ہی دست یاب نہیں۔بھارتی فوج میں تذویراتی امور کے ماہر اور تربیتی اداروں سے وابستہ فوج کے سابق مشیر لیفٹننٹ جنرل پرکاش مینن نے مودی کے بیان سے متعلق سوال اٹھایا کہ کیا ہم نے گلوان وادی پر چینی موقف تسلیم کرلیا ہے؟

وزیر اعظم کے بیان سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس وادی میں چین کا نیا دعویٰ تسلیم کرچکے ہیں۔ انہوں ں ے بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور وزیر اعظم کے بیانات میں تضادات کی نشان دہی بھی کی۔لداخ میں چین اور بھارت کے مابین کشیدگی کے بارے میں سب سے پہلے خبریں اور تجزئیات دینے والے سابق فوجی اور موجودہ صحافی کرنل (ر) اجے شکلا نے کہا کہ کیا میں نے وزیر اعظم مودی کو دوبارہ چین بھارت سرحدیں کھینچتے ہوئے دیکھا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ہماری سرحدوں میں داخل ہی نہیں ہوا تو 20 فوجیوں کی جانیں کیوں گئیں۔ کیا حکومت سمجھتی ہے کہ وہ کچھ بھی کہہ کر بچ نکلے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…