ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ  تارکین وطن کے پروگرام کو منسوخ کرنے کا ٹرمپ کا فیصلہ مسترد

datetime 20  جون‬‮  2020 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی سپریم کورٹ نے تارکین وطن کے پروگرام کو منسوخ کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ فوری طور پر 7 لاکھ نوجوان مہاجرین کو تحفظ دینے والے قانون کو ختم نہیں کرسکتی۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ کے چیف جسٹس جان جی رابرٹ جونیئر نے اکثریتی فیصلہ تحریر کیا جس کی حمایت دیگر 4 ججوں نے کی

اور سابق صدر بارک اوباما کے ڈیفرڈ ایکشن فار چائلڈ ہوڈ ایرائیولز (ڈی اے سی اے) قانون کو تحفظ دیا ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ فیصلہ طریقہ کار کی بنیاد پر ہے اور ٹرمپ انتظامیہ اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔امریکی چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ ’ڈی اے سی اے‘ یا اس کی منسوخی ایک مضبوط پالیسی ہے بلکہ ہم صرف واضح کر رہے ہیں کہ طریقہ کار کے مطابق ایجنسی اپنے کاموں کی قابل قبول وضاحت کر رہی ہے۔دوسری جانب امریکی سپریم کورٹ کے 4 ججوں نے اس قانون کو ختم کرنے کے حق میں فیصلہ دیا، تاہم اکثریتی بنیاد پر اس قانون کو ختم نہیں کیا جاسکے گا۔امریکی صدر نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ نے ہمیں ڈی اے سی اے پر دوبارہ پیش ہونے کو کہا ہے اس لئے کوئی شکست یا جیت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘انہوں نے فٹ بال کے کھیل کی طرح نشان دہی کی ہے اور امید ہے کہ وہ ہمارے امریکی پرچم کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ ہم بہتر دستاویزات دوبار جمع کروائیں گے تاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل طور پر عمل درآمد ہو۔سیاسی حریفوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں ڈی اے سی اے سے مستفید ہونے والوں کا خیال رکھنا چاہتا ہوں جس سے بہتر ڈیموکریٹس نہیں کرسکتے، لیکن دو سال سے انہوں نے مذاکرات سے انکار کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…