ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

چین اور بھارت کے سرحدی تنازع کے بعد نیپال نے بھی بھارت کا 372 مربع کلو میٹر متنازعہ علاقہ اپنے نقشے میں شامل کرتے ہوئے بڑا اعلان کر دیا

datetime 19  جون‬‮  2020 |

کھٹمنڈو(این این آئی ) نیپال کی صدر بدیا دیوی بھنڈاری نے گزشتہ روز نیپال کے تبدیل شدہ سرکاری نقشے کی توثیق کرتے ہوئے متعلقہ آئینی ترمیم پر دستخط کردیئے ہیں جس میں بھارت کے ساتھ 372 مربع کلومیٹر کے متنازعہ سرحدی علاقے کو بھی نیپال کی حدود میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ آئینی ترمیم گزشتہ ہفتے نیپالی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں نے اور بعد ازاں پیر کے روز

ایوانِ بالا نے مکمل اتفاقِ رائے سے منظور کی تھی۔ تاہم اس آئینی ترمیم کے حتمی طور پر رْو بہ عمل ہونے کیلیے نیپالی صدر کی جانب سے بھی توثیقی دستخط ضروری تھے۔ گزشتہ روز یہ کارروائی بھی مکمل ہوگئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارت اور نیپال میں حالیہ سرحدی تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب گزشتہ ماہ بھارت نے اپنی شمالی ریاست اترکھنڈ کو تبت میں چین کے زیرِ انتظام علاقے سے ملانے کیلیے 80 کلومیٹر طویل سڑک کا افتتاح کیا جس کا 19 کلومیٹر طویل حصہ بھارت اور نیپال کے درمیان لیپولیخ کے متنازعہ سرحدی علاقے سے گزرتا ہے۔بظاہر اس سڑک کا مقصد تبت میں واقع مانسروور جھیل تک پہنچنے کا راستہ مختصر کرنا ہے جسے بدھ مت اور جین مت کے علاوہ ہندو دھرم میں بھی مقدس حیثیت حاصل ہے۔تاہم اس بارے میں نیپال کا مؤقف ہے کہ لیپولیخ کا علاقہ اس کی ملکیت ہے اور اس بارے میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی سے 1816 میں کیا گیا ہوا معاہدہ، تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے۔ تاریخی طور پر بھی نیپال کبھی تاجِ برطانیہ کا حصہ نہیں رہا اس لیے ہندوستان کی تقسیم سے متعلق برطانوی حکومت کے فیصلے اور معاہدے بھی اس پر لاگو نہیں ہوتے۔ لہذا بھارت یہاں پر سڑکوں سمیت کسی قسم کا کوئی انفرا اسٹرکچر تعمیر کرنے کا استحقاق نہیں رکھتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…