اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

نیپال بھارت سرحدی تنازع ، امریکہ چین بھی آمنے سامنے،دونوں  ممالک کس کس کی حمایت میں کودپڑے؟صورتحال سنگین ہوگئی

datetime 21  مئی‬‮  2020 |

بیجنگ( آن لائن ) بھارت اور نیپال کے سرحدی تنازع کے معاملے پر ناصرف نیپال اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ چین اور انڈیا کی افواج بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئی ہیں۔اس معاملے میں چین نیپال کی حمایت میں جبکہ امریکہ بھارت کے حق میں سامنے آیا ہے۔نیپال اور بھارت میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد لداخ اور شمالی سکم کے مختلف متنازع علاقوں پر چین اور بھارت میں کشیدگی بڑھنے لگی ہے۔

دونوں ممالک نے متنازعہ سرحدی علاقوں میں مزید فوج تعینات کر دی ہے۔وادی گلوان میں چینی فوج کے قابل ذکر تعداد میں خیمے دیکھے جاسکتے ہیں جس کے باعث بھارت نے اس علاقے کی کڑی نگرانی شروع کر دی ہے۔۔امریکہ نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی پر بھی چین کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔جنوبی اور وسطی ایشیا کے لئے امریکہ کی اعلی سفارت کار ایلس ویلز کا کہنا ہے کہ سرحد پر حالیہ کشیدگی سے چین کی جارحیت ظاہر ہوتی ہے،چین کا رویہ دیگر اقوام کو یکجا ہونے پر مجبور کر رہا ہے تاکہ وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اکنامک ورلڈ آرڈر کو دوبارہ نافذ کریں۔واضح رہے کہ نیپال نے بھارت سے سرحدی تنازع کے بعد نیا نقشہ جاری کیا تھا۔ حکومتی ترجمان یوراج خطی واڈا نے کہا کہ نیا سیاسی نقشہ ہر سرکاری ادارے اور تمام نصابی کتب میں بھی استعمال ہوگا۔نیپال کی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب بھارت کی وزارت دفاع نے حال ہی میں لیپولیکھ سے گزرنے والی چین کی سرحد کے لیے ایک لنک روڈ کا افتتاح کیا۔اس لنک روڈ کے افتتاح کے بعد نیپال کی حکومت کی جانب سے ایک پریس نوٹ جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ 1816 کے سگؤلی معاہدے کے مطابق دریائے مہاکالی کا مشرقی علاقہ نیپال کا ہے جب کہ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے روڈ اپنے ہی علاقے میں بنایا ہے۔ لیپولیکھ کا علاقہ چین، نیپال اور بھارت کی سرحدوں سے متصل ہے، نیپال بھارت کے اس اقدام کے بعد ناراض ہیجب کہ لیپولیکھ میں قبضے کے معاملے پر نیپال میں بھارت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…