اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ایرانی پولیس وحشی ہوگئی 56 افغان پناہ گزینوں کو زندہ دریا میں پھینک دیا،23ہلاک،زندہ بچ جانیوالے افغان شہری کے دل دہلا دینے والے انکشافات

datetime 3  مئی‬‮  2020 |

کابل (این این آئی)افغانستان میں سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے شہریوں نے سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج پوسٹ کی ہے جس میں 23 افغان پناہ گزینوں کی لاشیں دکھائی گئی ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ لاشیں ان 56 مقتول پناہ گزینوں میں شامل لوگوں کی ہیں جنہیں چند روز قبل ایرانی بارڈر پولیس نے غیرقانونی طورپرملک میں داخل ہونے کے بعد قتل کردیا تھا اور ان کی لاشیں افغانستان کی طرف بہنے والے دریا ھریرودمیں بہا دی تھیں۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی 23 پناہ گزینوں کی لاشوں والی تصویر ان 56 افغان مہاجرین میں شامل لوگوں کی ہے جنہیں ایرانی پولیس نے گرفتار کرنے کے بعد غیرانسانی تشدد کا نشانہ بنایااور انہیں جبرا دریا میں کودنے پرمجبور کیا گیا تھا۔ایرانی بارڈر پولیس نے پہلے تو افغان مہاجرین پر فائرنگ کی اور انہیں بارڈر پر روک لیا گیا۔ اس کے بعد انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے شدید زخمی حالت میں دریا میں پھینک دیا تھا۔بچ جانے والے ایک پناہ گزین شرآقا طاھری نے بتایا کہ یہ پناہ گزین دو روز قبل کام کاج کے لیے ایران جانے کی کوشش کررہے تھے مگر انہیں سرحد پرروکا گیا اور اس کے بعد انہیں مارپیٹ کی گئی اور جبرا دریا برد کردیا گیا۔یہ افغان شہری ایران اور افغانستان کے درمیان ذوالفقار کراسنگ پوائنٹ سے اندر داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ ان میں سے بیشترکا تعلق ایران کے ھرات اور فاریاب صوبوں سے ہے۔ادھر صوبہ ھرات کے اسپتال کے ایک عہدیدار عارف جلالی نے بتایا کہ اسپتال میں دریا سے نکالی گئی پانچ افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں۔ھرات صوبے کے ترجمان جیلانی فرھاد نے کہا کہ پناہ گزینوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کرنے اوران کی لاشیں دریا میں پھینکنے کے واقعے کی اعلی سطح پر تحقیقات کی جائیں گی۔دریں اثنا ھرات میں ایرانی قونصل خانے کی طرف سے افغان پناہ گزینوں کو سرحد پر ایرانی پولیس کے ہاتھوں قتل کرکے ان کی لاشیں دریا میں پھینکنے کے واقعے کی سختی سے تردید کی ہے۔قونصل خانے کا کہنا تھا کہ افغان وزارت خارجہ مشہد میں قائم افغان قونبصل خانے کے تعاون سے اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔ جلد ہی اس کے نتائج کابل حکومت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…