اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

متحدہ عرب امارات میں مقیم والدین کی لاک ڈائون کی وجہ سے بیٹے کی آخری رسومات میں فیس بک پر شرکت ، لاکھوں لوگ اشکبار ہو گئے

datetime 17  اپریل‬‮  2020 |

ابوظہبی(این این آئی) کرونا وائرس کے باعث دنیا بھر سے المناک کہانیاں سامنے آ رہی ہیں، وبا کے پھیلا کے پیش نظر ہر ملک نے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں جس کے باعث بین الاقوامی سفر تقریبا رک چکا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارت کے ایک خاندان کو سفری پابندیوں کے باعث

اپنے نوجوان بیٹے کی آخری رسومات میں شرکت کا موقع نہ مل سکا اور انہوں نے یہ رسومات فیس بک لائیو کے ذریعے دیکھیں۔اس بدقسمت خاندان کا 16 سالہ بیٹا جیول جی جومے اپریل 2004 کو پیدا ہوا اور 7 سال سے کینسر کے خلاف مسلسل جنگ لڑتے ہوئے انتقال کر گیا۔جیول کے کزن نے بتایا کہ جیول شارجہ کے جیمز ملینیئم سکول میں دسویں گریڈ کا طالب علم تھا۔ جیول نے دبئی کے امریکی اسپتال میں زندگی کی آخری سانس لی جہاں اسے دو ہفتے قبل طبیعت زیادہ خراب ہونے پر داخل کیا گیا تھا۔کئی روز کی جدوجہد کے بعد 15 اپریل کو انہیں اپنے بیٹے کی میت کارگو جہاز کے ذریعے بھارت بھیجنے کی اجازت ملی تاہم خاندان کا کوئی فرد میت کے ساتھ نہ جا سکا۔جیول کے کزن نے بتایا کہ اس کا والد اپنے بیٹے کی میت کے ساتھ سفر کرنا چاہتا تھا لیکن یہ ممکن نہ ہو پایا اور آخر کار انہیں اپنے بیٹے کی آخری رسومات میں فیس بک کے ذریعے شرکت کرنا پڑی۔لاکھوں لوگوں نے پانچ گھنٹوں پر محیط یہ رسومات فیس بک اور یوٹیوب کے ذریعے دیکھیں۔ جیول کا خاندان ماں، باپ اور دو چھوٹے بھائیوں پر مشتمل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…