جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

مرنے والوں کے لواحقین کو مسلسل بری خبریں سناتے سناتے تھک گئی ہم خیریت سے نہیں ، کام کیسے کریں؟ امریکی نرس پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی

datetime 13  اپریل‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی)امریکا میں کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کے جلو میں ایک اسپتال میں مریضوں کی دیکھ بحال کرنے والی ایک نرسل کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں اسے پریشانی کے عالم میں روتے اور چلاتے دیکھا جا سکتا ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے ساتھ مذکورہ نرس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی ہے۔

فیس بک پر پوسٹ کردہ ویڈیو کو دو دن میں 20 لاکھ افراد دیکھ چکے ہیں۔امریکی نرس نے روتے ہوئے کہا کہ اسے مریضوں کی دیکھ بحال کے لیے نیویارک کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس سے قبل وہ گذشتہ ماہ مین ہٹن سے سینٹرل پارک کے ایک اسپتال میں کام کے لیے لائی گئی تھی۔ اس نے کہا کہ ہم خیریت سے نہیں ہیں کام کیسے کریں؟8 منٹ کی ویڈیو کلپ میں امریکی نرس کرونا وباء کی وجہ سے درپیش پریشانی سے زارو قطار رو رہی ہے۔ جس روز اس نے یہ ویڈیو ریکارڈ کرائی اس نے اسے مشکل دن قرار دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ مْجھے نہیں معلوم جو ہو رہا ہے وہ بہت اچھا ہے یا نہیں۔ میں مریضوں کے کمروں کے درمیان بھاگ بھاگ کر تھک گئی ہوں اور میرے سامنے مریض دم توڑ رہے ہیں۔ ہم انہیں نہیں بچا پاتے۔ اسپتالوں کے کمرے کراہتے مریضوں اور لاشوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ میں متاثرین اور مرنے والوں کے لواحقین کو مسلسل بری خبریں سناتے سناتے تھک گئی ہوں۔اس نے مزید کہا کہ میں نرسنگ عملہ اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کے لیے بہت رنجیدہ ہوں۔ میں یہ ویڈیو شائع کررہی ہوں تاکہ میں آپ کو یہ پیغام پہنچا سکوں کہ ہم 15 گھنٹوں کے کام کے بعد کیا معاملہ کر رہے ہیں۔اس نے بتایا کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ طبی عملہ انفیکشن سے محفوظ ہے اورمگر یہ غلط ہے۔ ہم خود بھی محفوظ نہیں ہیں۔نرس نے بتایا کہ طبی عملے کی شدید قلت نرسوں کی کمر توڑ رہی ہے۔ ان میں سے کچھ کو ہر شفٹ میں 14 مریضوں کی دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے۔ڈینیل شمیل نامی اس نرس کا کہنا تجا کہ وہ تنہائی محسوس کررہی ہیں۔ اس کے ساتھ بات کرنے والا کوئی نہیں۔ میں اپنی ماں کو ٹیلیفون کرکے اپنی کیفیت نہیں بتا سکتی کیونکہ وہ پہلے ہی مجھے نیویارک بھیجنے کے لیے تیار نہیں تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…