پیر‬‮ ، 27 جولائی‬‮ 2026 

کورونا وائرس چھینک یا کھانسی سے کتنے فٹ تک سفر کر سکتاہے؟نئی تحقیق کے نتائج نے دنیا بھر میں سماجی فاصلے کے اقدامات پرکئی سوالات کھڑے کر دئیے

datetime 2  اپریل‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی)نئے نوول کورونا وائرس سے تحفظ کیلئے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ کھانسی یا چھینکنے والے فرد سے کم از کم 6 فٹ دور رہنا چاہیے۔ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ فاصلہ کم ہے اور لوگوں کو کسی متاثرہ فرد سے اس سے بھی زیادہ دور کھڑا ہونا چاہیے۔

امریکہ کے میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق میں کہا گیا کہ نئے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے دیا بھر میں سماجی فاصلے کے اقدامات کیے جارہے ہیں مگر یہ ناکافی ہیں۔تحقیق کے مطابق کھانسی یا چھینک سے بننے والے گیس کے بادل وائرس کے ذرات کو 8 میٹر دور تک لے جاسکتے ہیں۔جریدے جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (جاما) میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ عالمی ادارہ صحت اور امریکا کے ادارے سی ڈی سی کی گائیلائنز 1930 کی دہائی کے فرسودہ ماڈلز پر مبنی ہیں، جن میں بتایا گیا تھا کہ کھانسی، چھینک یا سانس سے گیس کے بادل کیسے بنتے ہیں۔ایم آئی ٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر لیڈیا بوراویبا نے خبردار کیا کہ منہ سے خارج ہونے والے ہر قسم کے ذرات 23 سے 27 فٹ یا 7 سے 8 میٹر تک جراثیموں کو لے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ گائیڈلائنز ہر نظرثانی کی ضرورت ہے خصوصاً طبی ورکرز کے لیے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ پوری رفتار سے خارج ہونے والے ذرات فی سیکنڈ 33 سے 100 فٹ تک جاسکتے ہیں اور اس وقت استعمال ہونے والے سرجیک اور این 95 ماسکس پر اس کے اثرات کو جانچا نہیں گیا ہے۔محقق کے مطابق یہ خیال کے ذرات ایک غیرمرئی دیوار سے ٹکرا کر رک جائیں گے اور ہم محفوظ ہوجائیں گے۔

یہ شواہد پر مبنی نہیں۔انہوں نے زور دیا کہ یہ گیس والے بادل’ کھانسی، چھینک یا سانس کے دوران خارج ہونے والے ہر حجم کے ذرات کو آگے بڑھاتے ہیں اور کہنی سے منہ ڈھانپ کر چھینکنے یا کھانسی سے ان کو جزوی طور پر روکنا ممکن ہے۔یقینا 6 فٹ اور 27 فٹ میں بہت زیادہ فرق ہے اور کسی عوامی مقام پر ہر ایک کے لیے لگ بھگ 30 فٹ کی دوری سے کھرے ہونا بہت مشکل ہے، بلکہ اکثر کے لیے تو 6 فٹ بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ذرات ہوا میں کئی گھنٹے تک موجود رہ سکتے ہیں بلکہ مخصوص حالات میں ان کی زندگی میں کئی گنا اضافہ بھی ہوجاتا ہے۔یہ سائنسدان کئی سال سے کھانسی اور چھینک کے اثرات پر تحقیق کررہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ذرات مختلف اشیا کی سطح کو آلودہ کرسکتے ہیں جبکہ ہوا میں گھنٹوں تک ایک جگہ رکے رہ سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں وبا کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں مگر اس کے تیزی سے پھیلائو سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ ذرات اس میں کردار ادا کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



2076ء


آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…