اتوار‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2025 

کرونا وائرس سے مقابلہ۔۔ خلیوں میں مزاحمت کا طریقہ ڈھونڈ لیا، حیرت انگیز پیش رفت

datetime 30  مارچ‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی)محمد علی شاہ بھی ان دنوں لاک ڈائون میں ہیں لیکن اپنا یہ قیمتی وقت تحقیق میں صرف کررہے ہیں حالیہ دنوں میں انھوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے کورونا وائرس کی بناوٹ اور انسانی جسم پر پڑنے والے اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا اور ٹھوس نتائج پر پہنچنے میں کامیاب رہے جو کرونا وائرس سے بچائو اور اس کے علاج کا طریقہ دریافت کرنے کی جانب بنیاد فراہم کرتا ہے.

محمد علی نے کورونا وائرس سے بچائو کے لیے سینٹھیٹک اینٹی جینز کی تیاری کیلئے مصنوعی ذہانت کے ایک ایڈوانس طریقے ڈیپ لرننگ تکنیک کا استعمال کیا، پہلے پہل انہوں نے مصنوعی ذہانت کے طریقے سے کورونا وائرس کے علاج کی دوا کی تیاری پر توجہ دی لیکن پھر ایسے اینٹی باڈیز کی تلاش شروع کردی جو انسان کے نظام تنفس کو کورونا وائرس کے حملے سے بچاسکیں اور متاثرہ افراد کو پہنچنے والے نقصانات کو کم کرکے کورونا وائرس کو ختم کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکیں۔محمد علی نے 40لاکھ مالیکیولز اور کمپانڈئوز کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیہ کیا جو کورونا وائرس کے علاج میں معاون ثابت ہوسکیں او ر ان سے کارگر ترین اینٹی باڈیز بنائے جاسکیں جو کرونا کے وائرس سے چپک کر اسے انسانی نظام تنفس میں پنجے گاڑھنے سے روک سکیں، چار روز تک جاری رہنے والی تحقیق کا مرکز کورونا وائرس پر خار پشت porcupineجیسے کانٹے دار بناوٹ تھی جو انسانی جسم میں داخل ہوکر پروٹین بنانے والے بلاکس سے چپک جاتے ہیں۔محمد علی شاہ کی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کے جراثیم کو انسانی جسم یا نظام تنفس میں پروٹین بلاکس سے چپکنے سے بچانے کیلئے ایک ایسی ویکسین کا تیار ہونا ضروری ہے جو جنیاتی مواد کے ذریعے انسانی جسم کے خلیات کو کرونا کے وائرس سے پزل گیم کی طرح لڑنا سکھائے یعنی ویکسین کے جرثومے انسانی خلیوں کو کورونا کے ہر وائرس کے حساب سے اینٹی باڈیز کی ایک ایسی شکل بنائے جو وائرس سے لپٹ کر اس کے کانٹوں کو انسانی خلیوں میں پیوست ہونے سے روک سکیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پروفیسر غنی جاوید


’’اوئے انچارج صاحب اوپر دیکھو‘‘ آواز بھاری…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…