پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

کرونا وائرس سے مقابلہ۔۔ خلیوں میں مزاحمت کا طریقہ ڈھونڈ لیا، حیرت انگیز پیش رفت

datetime 30  مارچ‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)محمد علی شاہ بھی ان دنوں لاک ڈائون میں ہیں لیکن اپنا یہ قیمتی وقت تحقیق میں صرف کررہے ہیں حالیہ دنوں میں انھوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے کورونا وائرس کی بناوٹ اور انسانی جسم پر پڑنے والے اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا اور ٹھوس نتائج پر پہنچنے میں کامیاب رہے جو کرونا وائرس سے بچائو اور اس کے علاج کا طریقہ دریافت کرنے کی جانب بنیاد فراہم کرتا ہے.

محمد علی نے کورونا وائرس سے بچائو کے لیے سینٹھیٹک اینٹی جینز کی تیاری کیلئے مصنوعی ذہانت کے ایک ایڈوانس طریقے ڈیپ لرننگ تکنیک کا استعمال کیا، پہلے پہل انہوں نے مصنوعی ذہانت کے طریقے سے کورونا وائرس کے علاج کی دوا کی تیاری پر توجہ دی لیکن پھر ایسے اینٹی باڈیز کی تلاش شروع کردی جو انسان کے نظام تنفس کو کورونا وائرس کے حملے سے بچاسکیں اور متاثرہ افراد کو پہنچنے والے نقصانات کو کم کرکے کورونا وائرس کو ختم کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکیں۔محمد علی نے 40لاکھ مالیکیولز اور کمپانڈئوز کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیہ کیا جو کورونا وائرس کے علاج میں معاون ثابت ہوسکیں او ر ان سے کارگر ترین اینٹی باڈیز بنائے جاسکیں جو کرونا کے وائرس سے چپک کر اسے انسانی نظام تنفس میں پنجے گاڑھنے سے روک سکیں، چار روز تک جاری رہنے والی تحقیق کا مرکز کورونا وائرس پر خار پشت porcupineجیسے کانٹے دار بناوٹ تھی جو انسانی جسم میں داخل ہوکر پروٹین بنانے والے بلاکس سے چپک جاتے ہیں۔محمد علی شاہ کی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کے جراثیم کو انسانی جسم یا نظام تنفس میں پروٹین بلاکس سے چپکنے سے بچانے کیلئے ایک ایسی ویکسین کا تیار ہونا ضروری ہے جو جنیاتی مواد کے ذریعے انسانی جسم کے خلیات کو کرونا کے وائرس سے پزل گیم کی طرح لڑنا سکھائے یعنی ویکسین کے جرثومے انسانی خلیوں کو کورونا کے ہر وائرس کے حساب سے اینٹی باڈیز کی ایک ایسی شکل بنائے جو وائرس سے لپٹ کر اس کے کانٹوں کو انسانی خلیوں میں پیوست ہونے سے روک سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…