پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

کرونا سے بچاؤ کیلئے آدھی رات کو اذانیں، لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر اذانیں دیں اور توبہ و استغفار کریں، قدرتی آفت سے بچنے کیلئے اہم پیغام

datetime 22  مارچ‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ ن سندھ کے نائب صدر و سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ شبیر حسن انصاری نے کرونا وائرس کو قدرتی آفت قرار دیتے ہوئے رات کو پونے بارہ بجے مساجد میں آذانیں دلوا دیں،عوام سے اپیل کی کہ وہ کرونا سے بچاؤ کے لیئے اپنے گھروں کی چھتوں پر اذان دیں، استغفار کریں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے مستقبل میں گناہوں سے مکمل توبہ کرتے ہوئے دین کے احکامات اور شرعی اصولوں پر اپنی زندگی گزاریں گے تا کہ اس قدرتی آفت سے نجات مل سکے،

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ ن ہاؤس کے میڈیا سیل سے جاری کردہ بیان میں کیا، شبیر حسن انصاری نے کہا کہ چین نے اپنے شہریوں کو گھروں تک محدود کیا تو ضرورت کی ہر چیز ان کے دروازے پر دستک دے کر ان کو مہیا کی اور یہی صورتحال اٹلی اور دیگر دوسرے متاثرہ ممالک میں دیکھی جاسکتی ہے، جبکہ اس کے برعکس ہماری یہ حالت ہے کہ ہم اپنی عوام کو پینے کا ایک گھونٹ پانی بھی مہیاکرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور بازار اور دکانیں بند کر کے بیٹھے ہیں، ہمارے ملک میں روز کمانے اور روز کھانے والوں کی اکثریت ہے، ہم نے بھی سوچا ان لوگوں کا کیا ہوگا، پندرہ دنوں تک سرکاری دفاتر اور مارکیٹیں بند کرکے بیٹھ گئے ہیں کیا ہم اس کے متحمل ہوسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ احتیاط ضروری ہے لیکن ایک حد تک، تمام لوگ مارکیٹیں کھولیں، دفاتر کھولیں اور بازار کھولیں، ایک سچے مسلمان ہو کر اللہ کی مدد مانگیں، اسلامی تاریخ ہمارے سامنے ہے اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور رب کریم سے مدد طلب کریں کہ وہ ہم سب کو محفوظ رکھے بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے، انہوں نے کہا کہ کرونا وبا ئی مرض ہے اور احتیاط ہی سب سے بہترین بچاؤ ہے، اگر وفاقی حکومت یہی احتیاط آج سے ایک ماہ قبل کر لیتی تو صورتحال اس مقام تک ہی نہ پہنچتے، اپنی نا اہلی کو چھپانے کے لیے حکومت لوگوں کے کرونا سے خوفزدہ کر رہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ایک مسلمان کا موت پر یقین ہے ایمان ہے اور سچا مسلمان کبھی بھی دنیاوی آفتوں سے گھبراتا نہیں ہے بلکہ جذبہ ایمانی کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتا ہے، اس وقت جو باتیں پھیلائی جارہی ہے وہ صرف ہمارے ایمان کی کمزوری ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں بے شک جس نے اللہ پر توکل کیا وہ فلاح پاگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…