پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں لوگ کورونا کی آفت کو سنجیدہ نہیں لے رہے، شاہ محمود قریشی کی حیرت انگیز باتیں

datetime 20  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس صرف قومی آفت ہی نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کے لئے آفت ہے،جب 173سے زیادہ ملک اس سے متاثر ہو چکے ہوں اور جہاں 10ہزار کو اموات چھو رہی ہوں ۔شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ جہاں ترقی یافتہ دنیا کے ممالک جن کی آمدی اور وسائل ہم سے زیادہ ہیں ، جن کا ڈسپلن اور شعور ہم سے زیادہ ہے وہ بالکل بے بس دکھائی دے رہے ہوں تو ہمیں اس کو سنجیدگی سے لینا ہے ۔

اگر ہم یہاں ڈسپلن کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو ہم خود بھی متاثر ہوں گے اور اپنے عزیزواقارب اور دوستوں کو بھی متاثر کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی کوشش کے باوجود ابھی تک لوگ پاکستان میں اس کو اتنا سنجیدہ نہیں لے رہے جتنا سنجیدہ اسے لینا چاہئے، حکومت نے بچوں کو محفوظ کرنے کے لئے اسکولوں کو بند کیا اگر والدین بچوں کو پارکس میں لے جارہے ہیں تو وہ انہیں ایکپسوز کر رہے ہیں۔ اگر آپ چھٹی کے ماحول میں اہلخانہ کے ساتھ تفریحی مقام پر جاکر بیٹھنا شروع کر دیں گے تو پھر آپ اپنا نقصان کر رہے ہیں، کوئی باہر سے آرہا ہے، آپ بڑی ، بڑی شادیاں اور بڑی، بڑی تقریبات کررہے ہیں، آپ اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ فرض کریں اگر میں متاثر ہوا ہوں اور میں قرنطینہ سینٹر سے بھاگ جاتا ہوں تو میں کہاں جائوں گا اپنے گھر ہی جائوں گا تو میں کس کا نقصان کروں اپنی فیملی اور اپنے بچوں کا نقصان ہی کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ احساس نہیں ہو گا، کوئی فرد، کوئی کنبہ، کوئی محلہ، کوئی صوبہ ، شہر یاادارہ تنہا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعظم نے سب صوبوں کو وزرا اعلی کو بلایا تاکہ ایک مربوط پروگرام بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کلچر تھورا سا مختلف ہے اور ہمیں اس کے لئے تھوڑی سی اصلاح کی ضرورت ہے ، پہلے تو لوگوں کو چاہئے کہ وہ کورونا وائرس کو سنجیدگی سے لیںاور میں سمجھتا ہوں کہ ابھی بھی لوگ اس کو اس انداز میں نہیں لے رہے جس انداز میں لینا چاہئے۔ ا نہوں نے کہا کہ چین کی کامیابی کیا تھی، حکومت نے کہا اور لوگوں نے عمل کیا اور آج وہ محفوظ ہو رہے ہیں اور گذشتہ روز ووہان میں کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، کیوں نہیں آیا، لوگو ں نے ڈسپلن کا مظاہرہ کیا اگر ہم یہاں ڈسپلن کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو ہم خود بھی متاثر ہوں گے اور اپنے عزیزواقارب اور دوستوں کو بھی متاثر کریں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…