جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس، خیبرپختونخوا کے 6 اضلاع حساس قرار دیدئیے گئے

datetime 27  فروری‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی) ملک میں کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہونے پر خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے کورونا وباء سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات اٹھا لیے ہیں۔ خیبرپختونخوا میڈیکل یونیورسٹی پشاور میں قائم پبلک ہیلتھ لیبارٹری خیبرپختونخوا کو کوورنا وائرس کی ٹیسٹنگ کے لیے آپریشنلائز کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح صوبے کے تمام اضلاع میں ریپڈ رسپانس ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں

جن میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، ایم ایس، کورونا کے حوالے سے نامزد فوکل پرسن، لیب ٹیکنیشنز اور دیگر حکام شامل ہوں گے۔ کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز کے حوالے سے صوبے کے 6 اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جن میں پشاور، کوہاٹ، ہنگو، ڈی آئی خان، کرم اور ضلع اورکزئی شامل ہیں۔ محکمہ صحت نے ان 6 حساس اضلاع میں ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز کو رکھا جا سکے گا۔ ان یونٹس میں تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ کسی ناگہانی صورتحال میں ان سے استفادہ کیا جا سکے۔ محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے حال ہی میں ایران کا سفر کرنے والے 306 مسافروں کا ڈیٹا بھی متعلقہ 10 اضلاع کے ڈی ایچ اوز کو بھجوایا ہے تا کہ ڈی ایچ اوز ان مسافروں کے ساتھ رابطہ کریں اور اگر ضروری ہو تو ان کا طبی معائنہ بھی کریں۔ کورونا وائرس کے حوالے سے کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پشاور کے ایم ٹی آئی ہسپتالوں کو اپنی تیاریوں اور اقدامات کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ صوبے کے دیگر ہسپتالوں کو بھی کورونا کے ممکنہ پھیلاؤ کے پیش نظر آئسولیشن بیڈز اور طبی سہولیات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی کورونا وائرس کے مشتبہ  مریضوں کے حوالے سے جاری رپورٹ کے مطابق جمعرات کو پولیس اینڈ سروسز ہسپتال پشاور میں ایک مشتبہ مریض کو لایا گیا جس کے نمونے تجزیے کے لیے این آئی ایچ اسلام کو بھجوا دئیے گئے ہیں جبکہ مریض کو عالمی ادارہ صحت کے اصولوں کے مطابق ہسپتال کے آئسولیش وارڈ میں منتقل کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…