جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں طلاق کی شرح میں بڑا اضافہ ہو گیا ہر گھنٹے میں طلاقوں کی حیران کن تعداد سامنے آ گئی

datetime 29  جنوری‬‮  2020 |

ریاض(این این آئی )سعودی عرب میں ہر گھنٹے میں سات طلاقیں ریکارڈ کی گئی ہیں،میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں کیے جانے والے تازہ سروے میں کہاگیاکہ سعودی عرب میں محض 6 ماہ کے اندر طلاق کی شرح میں مزید اضافہ ہوگیا،اس وقت ملک بھر میں ہر گھنٹے 7 جب کہ یومیہ 168 طلاقیں ہو رہی ہیں۔ سروے میں بتایا گیا کہ اور اب وہاں ہر گھنٹے 7 طلاقیں ہونے لگی ہیں۔

حال ہی میں کیے جانے والے ایک سروے سے پتہ چلا کہ ملک میں یومیہ 168 طلاقیں ہو رہی ہیں۔رپورٹ میں طلاق کی بڑھتی شرح کو معاشرے کے لیے مہلک کینسر قرار دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس عمل سے سب سے زیادہ نقصان متاثرہ مرد و خواتین سمیت ان کے بچوں اور ملکی معیشت کو ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں چوں کہ حکومت شادی کے لیے قرض بھی فراہم کرتی ہے جو تقریبا 24 لاکھ روپے تک ہوتا ہے اور طلاق کی وجہ سے جوڑے لیا گیا قرض واپس نہیں کرپاتے۔حیران کن بات یہ ہے کہ سعودی عرب میں طلاق اور خواتین کی جانب سے شادی کو غیر اہم سمجھنے کے عمل میں گزشتہ 5 سال کے دوران اضافہ ہوا ہے اور ان ہی 5 سال میں سعودی حکومت نے خواتین کو زیادہ خودمختاری بھی دی ہے۔اگرچہ سعودی حکومت یا سروے کرنے والے اداروں نے خواتین کی خودمختاری کو طلاقوں کی بڑھتی شرح یا شادی کو غیر اہم سمجھنے سے نہیں جوڑا ہے تاہم سماجی ماہرین پریشان ہیں کہ جیسے ہی سعودی معاشرہ سیکولر ہوتا جا رہا ہے ویسے ہی خاندانی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…