جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

عالمی ٹائم میں ایک سیکنڈ کا اضافہ

datetime 18  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )سوال یہ ہے کہ کب ایک منٹ 60 سیکنڈ کا نہیں ہوتا؟ اور جواب ہے کہ جون کی 30 تاریخ کو عالمی وقت کے مطابق رات گیارہ بج کر 59 منٹ پوری دنیا میں 61 سیکنڈ کا ہو گا۔ اس غیرعمومی تبدیلی کو لیپ سیکنڈ کہا جاتا ہے۔چاند اور سورج کی تجاذبی قوت سے بندھی زمین محوری اور مداری گردش سے جڑی ہے اور اسی باعث یہ وہ وقت ہے، جب انتہائی درست گھڑیوں کو زمینی محوری حرکت کے ساتھ ہم آنگ کیا جاتا ہے۔دنیا بھر کی سو سات ارب آبادی میں سے بہت کم افراد ہیں، جو اس تبدیلی سے آگاہ ہیں اور جو آگاہ ہیں بھی، ان میں سے بھی چند ایک ہی نے یہ سوچا ہو گا کہ وہ یہ اضافی لمحہ کیسے گزاریں گے۔ تاہم ماہرین وقت کے لیے یہ اضافی سیکنڈ انتہائی بڑی شے ہے اور اس سے ایک پرانی بحث جاری ہے کہ آیا یہ لمحہ ضروری ہے، یا اسے اہمیت نہ دی جائے۔انٹرنیشنل ارتھ روٹیشن اینڈ ریفرنس سسٹم سروس کے زمینی محوری گردش کے شعبے کے ڈائریکٹر ڈینیئل گیمبِس کے مطابق، ایک سیکنڈ کی اضافت کا ایک منفی پہلو بھی ہے۔ واضح رہے کہ لیپ سیکنڈ عام افراد کی گھڑیوں میں شامل کرنے کے لیے ضروری نہیں۔ تاہم اس کا اثر انتہائی باریکی سے وقت بتانے والی گھڑیوں سے ہے، خصوصا ان ایٹمی گھڑیوں سے جو جوہری ارتعاشات کی رفتار سے اپنا نظام چلاتی ہیں۔اس کی ایک مثال رواں برس اپریل میں متعارف کروائی گئی وہ ایٹمی گھڑی ہے، جو سٹرونیم ایٹموں کے ذریعے پندرہ ارب برسوں کے لیے ٹھیک ٹھیک وقت بتائے گی۔ یہ بات اہم ہے کہ اس کائنات کی عمر اب تک ساڑھے تیرہ ارب سال ہوئی ہے۔عام انسانوں کے لیے اس ایک سیکنڈ کی زیادہ اہمیت نہ سہی، تاہم ماہرین کیمطابق جی پی ایس سیٹیلائیٹس کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر مائیکرو سیکنڈز میں معلومات کی ترسیل جیسے معاملات میں انتہائی اہم ہے۔ ایٹمی گھڑیوں جیسی درستی نہ سہی تاہم ان بڑے کمپیوٹروں میں کی اندرونی گھڑیاں بھی انتہائی ٹھیک وقت سے جڑے رہنے کی متقاضی ہوتی ہیں۔خیال رہے کہ سن 1971ءمیں کوآرڈینیڈ یونیورسل ٹائم UTC جسے عرف عام میں GMT بھی کہا جاتا ہے، کو زیادہ سہل اور درست بنانے کے لیے وقت میں لیپ سیکنڈ شامل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم پچھلے 15 برسوں سے یہ بحث جاری ہے کہ کیا یہ ایک اضافی سیکنڈ ضروری ہے یا نہیں۔اس سیکنڈ کے مخالف فرانس کے ایٹمی توانائی کمیشن سے وابستہ رولاں لیہو کے مطابق وقت میں اضافی سیکنڈ کرنے کی وجہ سے متعدد طرح کی مشکلات پیش آ رہی ہیں، کیوں کہ زیادہ تر مشینیوں کے اندر گھڑیاں نصب ہوتی ہے اور اتنی ساری مشینوں کی اندرونی گھڑیوں میں وقت کی تبدیلی آسان انہیں۔خیال رہے کہ پچھلے بار یہ تبدیلی 30 جون 2012 کو کی گئی تھی، جس کی وجہ سے متعدد انٹرنیٹ سرورز مسائل کا شکار ہوئے تھے۔ آسٹریلوی فضائی کمپنی کنٹاس کا آن لائن نظام بھی اسی وجہ سے کئی گھنٹوں تک ڈاو¿ن رہا تھا۔تاہم اس سیکنڈ کے وقت میں شامل کرنے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا، تو دو ہزار برسوں میں عالمی وقت اور زمین کی ایک مکمل محوری گردش کے درمیان ایک گھنٹے کا فرق پیدا ہو جائے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…