ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

پاکستان میں امن کے قیام کے بعد سب سے زیادہ فائدہ کس شعبے میں ہوا؟عمران خان نے اپنی مستقبل کی حکمت عملی بتا دی

datetime 22  جنوری‬‮  2020 |

ڈیووس (آن لائن ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغان جنگ کے باعث معاشرے میں کلاشنکوف اور منشیات کا کلچر آیا، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی اور بے پناہ نقصان اٹھایا، ہم نے فیصلہ کیا ہے اب کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

وزیراعظم نے پاکستان سٹرٹیجی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستانی سر زمین کئی قدیم تہذیبوں کا مسکن ہے، سیاست کے فروغ سے ملکی معیشت کو ترقی دی جاسکتی ہے، پاکستان میں کئی سیاحتی مقام دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں، پاکستان کی زیادہ تر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، نوجوانوں کے روزگار کیلئے غیر ملکی سرمایہ کاری لائیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا 60 کی دہائی میں پاکستانی معیشت خطے میں سب سے زیادہ ترقی کر رہی تھی، حکومت میں آنے کے بعد سب سے زیادہ توجہ معیشت پر دی۔ انہوں نے کہا ایران، سعودی عرب تصادم روکنے کیلئے پاکستان نے کردار ادا کیا، امریکا کے ساتھ مل کر افغانستان میں قیام امن کیلئے کام کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پہلے تنازع میں سوویت کی جانب سے افغانستان چھوڑنے کے بعد عسکریت پسند گروپ، فرقہ وارانہ گروپ، کلاشنکوف اور منشیات کا کلچر فروغ پایا جس نے ہمارے معاشرے کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں 70 ہزار پاکستانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور خودکش دھماکوں کے باعث پاکستان دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک تصور کیا جانے لگا۔انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو ہم نے کچھ اہم فیصلے کیے کہ ہم صرف ‘امن کے ساتھ شراکت داری کریں گے’ اور ہم کسی تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن کے قیام کے بعد سب سے زیادہ فائدہ سیاحت کے شعبے میں ہوا، پاکستان کی سرزمین کئی قدیم تہذیبوں کا مسکن ہے اور یہاں سیاحت کے وسیع مواقع ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کئی ایسے سیاحتی مقام ہیں جودنیا کی نظروں سے اب تک اوجھل ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جنگ بندی کے امکانات ہیں اور پاکستان اپنے پڑوسی ملک افغانستان میں امن کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی اقتصادی فورم میں وزیراعظم کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت مختلف ممالک کے سربراہان موجود ہیں۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کی سائڈ لائن پر سنگاپور اور آذربائیجان کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔دفترخارجہ سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ملاقات کی اور باہمی اعتماد اور حمایت سے بھرے ہوئے ہوئے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نے جموں کشمیر کے اسلامی تعاون رابطہ گروپ کے رکن کی حیثیت سے شامل ہونے سمیت آذربائیجان کی قابل قدر شراکت داری کو سراہا، ساتھ ہی عمران خان نے ناگورنو-کراباخ کے معاملے آذربائیجان کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔اس دوران عمران خان نے آذربائیجان کے صر کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سمیت بھارتی حکومت کی جانب خطے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے یکطرفہ اقدام کے بارے میں
آگاہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…