بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

فیفا کے ریفری جو رکشہ چلاتے ہیں

datetime 14  جون‬‮  2015 |

بھارت کے بہترین ریفری کو ابھی اچھی قسمت کا انتظار ہے۔’دنیا میں سب سے آسان چیز ہے آٹو رکشہ چلانا. میں باس ہوں کیونکہ میں اپنی مرضی کا مالک ہوں۔‘اگر یہ الفاظ کسی اور رکشہ ڈرائیور کے ہوتے تو اسے یہ جان کر نظر انداز کیا جا سکتا تھا کہ تین پہیوں کی دنیا میں رہنے والے کسی شخص نے یہ بات کہی ہے۔لیکن یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جو بھارتی ریاست کیرالہ کے وٹام شہر میں رکشہ چلاتا ہے تاکہ وہ ایک فٹ بال میچ کا ریفری بننے کے لیے جا سکے۔سنتوش کمار ان چھ بھارتی ریفریوں میں سے ہیں ایک جنھیں گذشتہ چار برسوں سے فیفابین الاقوامی فٹ بال میچ کے ریفری کے طور پر منتخب کر رہی ہے۔وہ اپنے روزگار کے بارے میں اپنے کیریئر کے سب سے مشکل میچوں میں ریفری بننے کی طرح ہی فکرمند ہیں۔سنتوش کمار نے چین، ابو ظہبی میں کئی فٹ بال میچوں میں ریفری کے کردار ادا کیا ہے۔ وہ بھارت میں بھی قومی مقابلوں میں ریفری کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔سنتووش کمار کہتے ہیں: ’میں صرف آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن (اے آئی آف ایف) سے ملنے والی تنخواہ پر گزارہ نہیں کر سکتا۔ اگر کل میں زخمی ہو گیا تو کیا ہو گا؟

15

اس لیے مجھے اضافی کمائی کی ضرورت ہے۔‘فٹ بال سے جب فرصت ملتی ہے تو زیادہ پیسہ کمانے کے لیے وہ رکشہ کی بجائے کار بھی چلاتے ہیںسنتوش کمار کو اس بات کا احساس ہے کہ وہ 40 سال کے ہو چکے ہیں، لیکن ان تمام لوگوں سے فٹ ہیں، جن کے ساتھ انھوں نے کبھی فٹ بال کھیلا تھا۔
انھیں معلوم ہے کہ ان کے پاس ریفری کی ذمہ داری نبھانے کے لیے پانچ سال ہی باقی ہیں۔فٹ بال سے جب فرصت ملتی ہے تو زیادہ پیسہ کمانے کے لیے وہ رکشہ کی بجائے کار بھی چلاتے ہیں۔انھوں نے سنہ 1995 میں 12 ویں کے بعد پڑھائی چھوڑ دی، وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے سوچا مجھے فٹ بال کھیلنے کے لیے نوکری مل جائے گی۔‘لیکن انھوں نے مقامی ٹیموں کے لیے سنہ 2008 تک کھیلا اور پیسے کمائے۔ انھوں نے انڈر -21 فٹ بال کیمپ میں بھی حصہ لیا لیکن اس وہ منتخب نہیں ہوئے۔ریفری بننے میں ان کی دلچسپی اس وقت ظاہر ہوئی جب کیرالہ میں میمین میتھیو کپ ٹورنامنٹ کے دوران ریفری کے لئے وہ لائزن افسر بنائے گئے تھے۔انھوں نے دیکھا کہ ریفری کو کافی عزت ملتی تھی۔وہ اپنے روزگار کے بارے میں اپنے کیریئر کے سب سے مشکل میچوں میں ریفری بننے کی طرح ہی فکرمند ہیںوہ بتاتے ہیں: ’1996 میں جب ایسوسی ایشن نے ریفری کے لیے ایک ٹیسٹ منعقد کیا تو میں نے اس میں حصہ لیا اور میرا نتیجہ اچھا رہا۔ لیکن 1998 میں ایک مقامی ٹیم کے لیے کھیلتے ہوئے میرے دائیں پاو¿ں میں چوٹ لگ گئی۔ میں دوڑ سکتا ہوں لیکن کھیل نہیں سکتا کیونکہ میں دائیں پیر سے کھیلنے والا کھلاڑی ہوں۔‘لیکن انھوں نے ضلعی سطح پر لیگ میچوں میں ریفری بننا جاری رکھا۔سنتوش کمار بتاتے ہیں:

16

’اس کے بعد میں کلاس ون ریفری بن گیا۔ سال 2004 میں نیشنل ریفری بن گیا۔ سال 2011 میں اےآئی ایف ایف نے فیفا میں میرے نام کی سفارش کی۔‘ایک اپارٹمنٹ میں وہ ایک مینیجر کے طور پر کام کرتے تھے اور اسی دوران وہ پارٹ ٹائم کار ڈرائیور اور ایک رکشہ ڈرائیور کا بھی کام کرتے تھے۔سات سال پہلے انھوں نے ایک آٹو رکشہ خریدا۔لیکن 14-2013 کے بھارت کے بہترین ریفری کو ابھی اچھی قسمت کا انتظار ہے۔سنتوش کمار کہتے ہیں: ’چند ماہ پہلے حکومت نے مجھے ملازمت کی پیشکش کی تھی۔ سپورٹس کونسل نے میرے دستاویزات جانچے لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…