جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پانی کے قطروں سے چلنے والاکمپیوٹرتیار

datetime 14  جون‬‮  2015 |

نیویارک(نیوزڈیسک )ٹیکنالوجی کی جدت نے کمپیوٹر کو تیزرفتار اور حیرت انگیز تو بنا ہی دیا تھا تم اب اس کو مزید جدت دیتے ہوئے پانی سے آپریٹ کیا جانے والا کمپیوٹر تیارکر لیا گیا ہے جو الیکٹرونزکی بجائے پانی سے کام کرے گا۔
امریکی سائنسدانوں کے تیارکردہ اس کمپیوٹر کومقناطیسی پانی کے قطروں سے آپریٹ کیا جاسکے گا جب کہ اس کا مقصد مادے کے استعمال کو کنٹرول کرنا اور بہتر بنانا ہے یہ کمپیوٹر پہلے سے موجود کمپیوٹر سسٹم یعنی یونیورسل لاجک گیٹس کی طرح کام کرے گا اور اس کی رفتار بھی کم ہوگی تاہم اس مشین کو تیار کرنے والی ٹیم نے اس خامی کو جلد دور کرنے کا ارادہ عزم ظاہر کیا ہے۔
اس جدید کمپیوٹر کو ایجاد کرنے والی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ معلومات کو پروسیس کرنے والے کمپیوٹر تو پہلے ہی سے موجود ہیں تاہم ہمارا مقصد ایسے کمپیوٹر تیار کرنا ہے جس میں مادے کے اثر کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے، آپ تصور کریں کہ آپ کے پاس ایسا کمپیوٹر ہے جو نہ صرف معلومات کو پروسیس کرتا ہوبلکہ مادے کو بھی کنٹرول کرے تو آپ حیرت زدہ رہ جائیں گے اور ہم نے ایسا ہی کیا ہے اور اس کے لیے 10 مائکرونز کی جگہ ایک ملی میٹر پانی کا استعمال کیا گیا ہے۔
ماہرین نے کمپیوٹر کے سسٹم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کے قطروں کو مقناطیسی نینو ذرات کی مدد سے کنٹرول کیا جاتا ہے جنہیں ایک آئرن بار کے جال کے گرد حرکت دی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ عام کمپیوٹر میں یہی کام اس میں نصب کلاک کرتا ہے جو سسٹم کی ہر حرکت کو بہترین انداز میں کنٹرول کرتا ہے اور بائنری کوڈ میں اسے ڈی کوڈ کرتا ہے اس نئے سسٹم کی میموری ایک بٹ تک ہے جب کہ موجود چپ کا سائز ایک پوسٹ اسٹیمپ کے برابر ہے اس نئے سسٹم میں پانی کے قطرے کا سائز اسے سے بھی کم اوعر افیون کے بیج کے برابرہے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…