اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پرثالثی کی پیشکش بھارتی سازش نکلی،جانتے ہیں ثالثی کی آڑ میں پاکستان کی کن کامیابیوں کو ناکامی میں تبدیل کر دیا گیا ؟

datetime 3  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جنرل (ر) حمید گل مرحوم کی صاحبزادی عظمیٰ گل نے اپنی خصوصی تحریر میں لکھا ہے کہ نواز شریف کے ادوار میں کشمیر سے متعلق بڑی کمزور پالیسیاں وضع کی گئیں اور ہم صرف ہندوستان دوستی پالیسی پر گامزن رہے۔ یہاں تک کہ بات کچھ لو اور کچھ دو تک آپہنچی۔بے نظیر نے تو راجیو گاندھی کی اسلام آباد آمد پر کشمیر کے بورڈ تک اتروا دیئے تھے ۔

جنرل پرویز مشرف نے تو کشمیر کی تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جس کا خمیازہ کشمیری آج تک بھگت رہے ہیں۔جنرل مشرف نے بھارت کو اجازت دے دی کہ لائن آف کنٹرول پر باڑ لگا کر کشمیر اور کشمیریوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈال کر اور اپنے دیرینہ اصولی موقف سے پیچھے ہٹ کر سمجھوتے پر بھی آمادگی ظاہر کر دی۔ اس پس منظر میں اور پاکستان کی سالہا سال سے کمزور کشمیر پالیسی میں وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ جولائی 2019 میں صدر ٹرمپ کا اچانک کشمیر کے معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش اور جوش و خروش ایک حیران کن بات تھی۔عظمیٰ گل نے کہا کہ مسلمان ہمیشہ سے سازشوں کا شکار رہے ہیں ۔ امریکہ ہمیں ایک بار پھر ثالثی کے خوش نما جال میں الجھانے کی کوشش کررہا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور دانشور کوئی بھی اس مسئلے پر یکسو نظر نہیں آتا۔ اسی میں مجھے خطرہ پنہاں نظر آتا ہے۔ ثالثی نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو مزید پیچیدہ کیا ہے۔عظمیٰ گل نے اپنی خصوصی تحریر میں کہا کہ ہم نے ہمیشہ جیتی ہوئی بازی ثالثی کی میز پرہاری ہے۔

ہماری بہت سی کامیابیوں کو ثالثی کی آڑ میں سازش سے ناکامی میں تبدیل کر دیا گیا۔تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کے معاملے میں اسلام دشمن طاقتیں کبھی منصف ثالث ثابت نہیں ہوئیں اور نہ ہی اقوام متحدہ نے اس میں انصاف پر مبنی کوئی کردار ادا کیا ہے اور نہ ہی کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کشمیر کو اتنی اہمیت دینی جائے جتنی جسم کے لئے شہ رگ کی ہوتی ہے۔ جسم کے دوسرے اعضاء کے بغیر جینے کا تصور کیا جاسکتا ہے لیکن شہ رگ کے بغیر نہیں۔ مشرقی پاکستان کی شکل میں ہمارا بازوکٹ گیا مگر ہم زندہ رہ گئے لیکن شہ رگ کٹنے سے ہم زندہ نہیں رہیں گے۔ پہلے ہی اس معاملے میں بہت دیر ہو چکی ہے۔ ہم خدا کے بتائے ہوئے طریقہ پر کیوں نہیں چلتے اور کیوں نہیں جہاد کا نعرہ بلند کرتے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…