ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

کاش عمران خان دوسرے بھٹو ہوتے۔۔!  وزیراعظم کی تقریر دراصل کیا تھی؟بلاول زرداری نے حیرت انگیز دعوے کردیئے

datetime 29  ستمبر‬‮  2019 |

سیہون (این این آئی)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوام دشمن اور نااہل حکومت کو گھر بھیجیں گے، اس وقت احتساب نہیں سیاسی انتقام چل رہا ہے،، وزیراعظم عمران خان کشمیر کو اپنی پی آر کیلئے استعمال نہ کریں، وزیراعظم کی تقریر پری سلیکٹڈ تھی، وزیراعظم کو انسانی حقوق کے ساتھ یواین کی قرادادوں پر فوکس ہونا چاہیے تھا،سلیکٹڈ حکومت کی تعریف ہو رہی ہے، کاش عمران خان دوسرے بھٹو ہوتے۔

اتوار کو یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کاش احتساب کا عمل چل رہا ہوتا، ملک کو اصل احتساب کی ضرورت ہے، یہ احتساب کا عمل نہیں بلکہ سیاسی انتقام کا چل رہا ہے اور یہ عوام دشمن حکومت ہے اور ہم عوام دشمن، نااہل حکومت کو گھر بھیجیں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ عوام دشمن بجٹ کے پیش ہونے بعد عوامی رابطہ مہم پر نکلے تھے اور عوامی رابطہ مہم آگے بھی ہوتی رہے گی، سندھ اور پنجاب میں احتجاجی مہم چلا رہے ہیں، ہم اپنی آواز اٹھا تے رہیں گے، اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے لیے بھی آواز اٹھائیں گے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پاکستان کے عوام مایوس ہیں اور ملک کا وزیر اعظم کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ میں کیا کروں تو عوام میں مایوسی ہوتی ہے، پاکستان کے عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ بتایا جائے کہ کشمیر پر حملے بعد وزیراعظم نے کتنے ممالک کا دورہ کیا، کشمیر 50 دن سے اوپن ائیر جیل بنی ہوئی ہے، وزیراعظم عمران خان کشمیر کو اپنی پی آر کیلئے استعمال نہ کریں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام مایوس ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کشمیر پر اتنا بڑا حملہ ہو گیا اگر آپ کو پتہ تھا تو آپ نے کیا کیا؟ وزیر اعظم بے بسی سے کہتے ہیں میں کیا کروں؟ یہ عوام کے لیے مایوس کن ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی تقریر پری سلیکٹڈ تھی، وزیراعظم کو انسانی حقوق کے ساتھ یواین کی قرادادوں پر فوکس ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی نظریاتی جماعت ہے

اور پاکستان کی نئی نسل نے عوام کی خدمت کرنی ہے اور اسی نئی نسل نے شہدا کا نام روشن کرنا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر 50 دن سے جیل بنا ہوا ہے، تقریر کرنا آسان ہوتا ہے لیکن آپ نے عملی اقدام کے لیے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا ذکر کرنا چاہیے تھا تاہم پیپلز پارٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ہمیں مل کر کام کرنا پڑے گا لیکن ہم عمران خان کے ساتھ کام نہیں کر سکتے کیونکہ صاف نظر آ رہا ہے یہ دھاندلی زدہ حکومت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…