زیادہ تر روہنگین مسلمان برما (میانمر)کی رخنی ریاست میں آباد ہیں۔ رخنی اراکان ضلع میں واقع ہے۔ برطانوی راج سے قبل بنگلہ دیش کے علاقہ چٹاگانگ سے لوگ اراکان میں آباد ہونا پسند کرتے تھے کیونکہ یہ علاقہ زرخیز تھا بلکہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی بنگال پریذیڈنسی کے دوران چٹاگانگ کے لوگوں کو رخنی اور اراکان میں آباد ہونے پر مائل کیا۔ انہیں طرح طرح کے سبز باغ دکھا کر وہاں آباد کیا گیا۔ کمپنی کو ایسے کسان چاہیے تھے جو بنجر زمین کے سینے سے ہریالی اگاتے۔ بنگلہ دیش سے ہجرت کرنے والے زیادہ تر مسلمان تھے۔ تب بنگال پریذیڈنسی اور اراکان میں کوئی سرحدی حدبندی نہیں تھی ۔ وہاں کے لوگ آسانی سے ایک سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتے ۔ اصل مسئلہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران شروع ہوا جب تاجِ برطانیہ کو اپنے دفاع کے لئے ’’کرائے کے فوجی اور مفت کی گردنیں چاہیے تھیں‘‘۔ چٹاگانگ اور اراکان کے مسلمانوں نے مزاحمت کی جبکہ اراکان اور رخنی کے بدھوں نے کمال چاپلوسی کا مظاہرہ کیا کیونکہ یہ آرٹ انہوں نے ہندو ئوں سے سیکھا تھا کہ انگریز بہادر کی چاپلوسی میں اچھی گزربسر ہوسکتی ہے۔ چونکہ مسلمانوں نے تاجِ برطانیہ کی جنگ لڑنے سے انکار کیا اس لیے آج تک روہنگین مسلمان اُس انکار کی پاداش میں زندہ جلائے جارہے ہیں۔ عورتوں اور لڑکیوں پر جسمانی ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ بھکشو اور بدھ مسلمان بچوں کوگہری اندھی قبروں میں دھکیل رہے ہیں۔ بدھ مت کا پیروکار آشین ویراتھو اس وقت بدھ مت حامیوں کی سربراہی میں ایک ایسے دہشت گرد گروہ کو لیڈ کررہا ہے، جو مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے، لیکن ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ بے حسی کی انتہا ء یہیں تک ختم نہیںہوتی بلکہ جو مجبو ر روہنگین مسلمان بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہیں بنگالی مسلمان انہیں دھتکار کر واپس بھیج رہے ہیںحالانکہ کچھ تاریخ دانوں کے مطابق روہنگین مسلمان چٹاگانگ سے ہجرت کرکے وہاں آباد ہوئے تھے ۔تھائی لینڈ کے بازاروں میں روہنگین مسلمان لڑکیوں کو جسمانی اذیت دی جارہی ہے جبکہ ان کے مردوں کو واپس سمندر میں دھکیلا جا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بیس ہزار مسلمان عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور نوجوانوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔اس ساری صورتحال پر اقوامِ متحدہ کا کردار ایک ایسے بھیڑیے کی مانند ہے جس کے جبڑوں کو معصوم انسانوں کا خون لگ چکا ہے اور وہ ظلم و ستم کا شکار روہنگین مسلمانوں کا قتل عام دیکھ کر محظو ظ ہورہا ہے۔ نیٹوفوج میں کلیدی کردار ادا کرنے والا ترکی بھی اس موقع پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے ۔ ابھی تک مسلم امہ سے ایک آواز تک نہیں اٹھی جو روہنگین مسلمانوں کی جان و مال اور عصمت دری کے خلاف بلند کی گئی ہو۔ ہمارے میڈیاکی پالیسی دیکھیں تو جس قدر کوریج ماڈل ایان علی کو دی جارہی ہے اس قدر کسی بھی قومی ایشو کو نہیں دی گئی۔ اگر پاکستانی میڈیا ایان کی جگہ روہنگین مسلمانوں کی حالتِ زار پر پیکیج بناتا اور ہر بلیٹن میں اس ایشوکی کوریج ہوتی تو شاید آج حالات کچھ اور ہوتے، لیکن ہمارے بڑے بڑے ٹیلی ویثرن چینل اور اخبارات میں ایان کے سونے ، جاگنے، میک اپ کرنے کے اوقاتِ کار، عدالت پیشی
والے دن نئے ڈیزائن کے ملبوسات اور ہاتھوں میں پانی کی بوتل اور اس کی چال ڈھال کی نزاکت کو جس انداز میں پیش کیا جاتا ہے وہاں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ایان علی کی قید ہے ۔
کیا برماسے بڑا مسئلہ ایان علی کی قید؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق فیصلہ کرلیاگیا
-
یکم جولائی سے کن جائیدادوں کی خرید وفروخت نہیں ہو سکے گی؟ اہم خبر
-
ریو سیکریٹو
-
گرمی سے ستائے عوام کیلئے خوشخبری، بادل برسنے کو تیار
-
گھر داماد نے 4 سال تعلقات کے بعد بھاگ کر ساس سے کورٹ میرج کرلی
-
قیمتی الیکٹرک بائیک اب ہر شہری کی دسترس میں! حکومت کا بڑا فیصلہ
-
معروف امریکی ریسلر ہلک ہوگن کی موت کیسے ہوئی؟ وجہ سامنے آگئی
-
رواں سال مون سون بارشیں کم ہوں گی یا زیادہ؟ محکمہ موسمیات نے خبردار کردیا
-
حسن علی نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں نیا ریکارڈ قائم کردیا
-
ہنگری کا بڑا فیصلہ، 3 ممالک کے شہریوں کو ویزے جاری نہ کرنے کا اعلان
-
بجلی سستی کر دی گئی، نوٹیفکیشن جاری
-
سعودی عرب میں ہائی الرٹ، سول ڈیفنس کا شہریوں اور غیر ملکیوں کیلئے انتباہ جاری
-
دم کروانے کے بہانے ہوٹل لے جاکر 18 سالہ بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے سوتیلا باپ گرفتار
-
سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی کمی ریکارڈ



















































