بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کیا برماسے بڑا مسئلہ ایان علی کی قید؟

datetime 11  جون‬‮  2015 |

زیادہ تر روہنگین مسلمان برما (میانمر)کی رخنی ریاست میں آباد ہیں۔ رخنی اراکان ضلع میں واقع ہے۔ برطانوی راج سے قبل بنگلہ دیش کے علاقہ چٹاگانگ سے لوگ اراکان میں آباد ہونا پسند کرتے تھے کیونکہ یہ علاقہ زرخیز تھا بلکہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی بنگال پریذیڈنسی کے دوران چٹاگانگ کے لوگوں کو رخنی اور اراکان میں آباد ہونے پر مائل کیا۔ انہیں طرح طرح کے سبز باغ دکھا کر وہاں آباد کیا گیا۔ کمپنی کو ایسے کسان چاہیے تھے جو بنجر زمین کے سینے سے ہریالی اگاتے۔ بنگلہ دیش سے ہجرت کرنے والے زیادہ تر مسلمان تھے۔ تب بنگال پریذیڈنسی اور اراکان میں کوئی سرحدی حدبندی نہیں تھی ۔ وہاں کے لوگ آسانی سے ایک سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتے ۔ اصل مسئلہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران شروع ہوا جب تاجِ برطانیہ کو اپنے دفاع کے لئے ’’کرائے کے فوجی اور مفت کی گردنیں چاہیے تھیں‘‘۔ چٹاگانگ اور اراکان کے مسلمانوں نے مزاحمت کی جبکہ اراکان اور رخنی کے بدھوں نے کمال چاپلوسی کا مظاہرہ کیا کیونکہ یہ آرٹ انہوں نے ہندو ئوں سے سیکھا تھا کہ انگریز بہادر کی چاپلوسی میں اچھی گزربسر ہوسکتی ہے۔ چونکہ مسلمانوں نے تاجِ برطانیہ کی جنگ لڑنے سے انکار کیا اس لیے آج تک روہنگین مسلمان اُس انکار کی پاداش میں زندہ جلائے جارہے ہیں۔ عورتوں اور لڑکیوں پر جسمانی ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ بھکشو اور بدھ مسلمان بچوں کوگہری اندھی قبروں میں دھکیل رہے ہیں۔ بدھ مت کا پیروکار آشین ویراتھو اس وقت بدھ مت حامیوں کی سربراہی میں ایک ایسے دہشت گرد گروہ کو لیڈ کررہا ہے، جو مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے، لیکن ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ بے حسی کی انتہا ء یہیں تک ختم نہیںہوتی بلکہ جو مجبو ر روہنگین مسلمان بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہیں بنگالی مسلمان انہیں دھتکار کر واپس بھیج رہے ہیںحالانکہ کچھ تاریخ دانوں کے مطابق روہنگین مسلمان چٹاگانگ سے ہجرت کرکے وہاں آباد ہوئے تھے ۔تھائی لینڈ کے بازاروں میں روہنگین مسلمان لڑکیوں کو جسمانی اذیت دی جارہی ہے جبکہ ان کے مردوں کو واپس سمندر میں دھکیلا جا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بیس ہزار مسلمان عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور نوجوانوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔اس ساری صورتحال پر اقوامِ متحدہ کا کردار ایک ایسے بھیڑیے کی مانند ہے جس کے جبڑوں کو معصوم انسانوں کا خون لگ چکا ہے اور وہ ظلم و ستم کا شکار روہنگین مسلمانوں کا قتل عام دیکھ کر محظو ظ ہورہا ہے۔ نیٹوفوج میں کلیدی کردار ادا کرنے والا ترکی بھی اس موقع پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے ۔ ابھی تک مسلم امہ سے ایک آواز تک نہیں اٹھی جو روہنگین مسلمانوں کی جان و مال اور عصمت دری کے خلاف بلند کی گئی ہو۔ ہمارے میڈیاکی پالیسی دیکھیں تو جس قدر کوریج ماڈل ایان علی کو دی جارہی ہے اس قدر کسی بھی قومی ایشو کو نہیں دی گئی۔ اگر پاکستانی میڈیا ایان کی جگہ روہنگین مسلمانوں کی حالتِ زار پر پیکیج بناتا اور ہر بلیٹن میں اس ایشوکی کوریج ہوتی تو شاید آج حالات کچھ اور ہوتے، لیکن ہمارے بڑے بڑے ٹیلی ویثرن چینل اور اخبارات میں ایان کے سونے ، جاگنے، میک اپ کرنے کے اوقاتِ کار، عدالت پیشی
والے دن نئے ڈیزائن کے ملبوسات اور ہاتھوں میں پانی کی بوتل اور اس کی چال ڈھال کی نزاکت کو جس انداز میں پیش کیا جاتا ہے وہاں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ایان علی کی قید ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…