جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چکن کھانے کی عادت آپ کو کونسے موذی مرض کی طرف دھکیل رہی ہے؟برطانوی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجادی

datetime 9  ستمبر‬‮  2019 |

لندن(این این آئی)چکن دنیا میں سب سے زیادہ کھائے جانے والا گوشت ہے مگر یہ کینسر کا شکار بھی بناسکتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ بہت زیادہ چکن کھانے کی عادت خون کے کینسر اور مردوں میں مثانے کے کینسر کا شکار بناسکتی ہے۔اس تحقیق کے دوران 4 لاکھ 75 ہزار سے

زائد درمیانی عمر کے افراد کی غذائی عادات کا جائزہ 2006 سے 2014 تک لیا گیا۔تحقیق کے دوران ان افراد کی غذائوں کے ساتھ ان امراض کا تجزیہ بھی کیا گیا جن کے وہ شکار ہیں اور ان میں سے 23 ہزار میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔تحقیق کے مطابق چکن کھانے کی عادت اور خون و مثانے کے کینسر کے درمیان تعلق موجود ہے۔اس تحقیق میں یہ دعویٰ تو کیا گیا کہ چکن کھانے سے مخصوص اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔تاہم محققین کے مطابق اس کے متعدد عناصر ہوسکتے ہیں جیسے چکن کو پکانے کا طریقہ وغیرہ۔اب تک چکن کو سرخ گشت کا صحت بخش متبادل تصور کیا جاتا تھا، سرخ گوشت کا بہت زیادہ استعمال بھی مختلف اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔اس تحقیق کے محققین نے تسلیم کیا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ چین اور کینسر کے درمیان تعلق کی وضاحت ہوسکے۔محققین کا کہنا تھا کہ ہمارا خیال تھا کہ نتائج سے معلوم ہوگا کہ سرخ گوشت سفید گوشت کے مقابلے میں بلڈ کولیسٹرول لیول پر زیادہ منفی اثرات کرتا ہوگا مگر یہ جان کر حیران رہ گئے کہ ایسا نہیں بلکہ دونوں اقسام کے گوشت کولیسٹرول پر ایک جیسے ہی اثرات مرتب کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرخ یا سفید کسی بھی قسم کے گوشت کا اعتدال میں رہ کر استعمال کرنا نقصان دہ کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے امراض قلب اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہوتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ درمیانی عمر میں غذائی پروٹین جیسے دودھ، مرغی، مکھن اور پنیر وغیرہ سے ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 49 فیصد بڑھا دیتے ہیں۔محققین کا کہنا تھا کہ مچھلی اور انڈوں میں موجود پروٹین سے یہ خطرہ نہیں بڑھتا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ حیوانی پروٹین کے زیادہ استعمال یہ خطرہ 43 فیصد جبکہ نباتاتی پروٹین کے استعمال سے 17 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔فن لینڈ کی ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ بیشتر غذائی ذرائع سے حاصل ہونے والی پروٹین کا زیادہ استعمال ہارٹ فیلیئر کا خطرہ کسی حد تک بڑھا سکتا ہے، صرف مچھلی اور انڈے اس خطرے کا باعث نہیں بنتے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…