جمعرات‬‮ ، 18 جون‬‮ 2026 

امریکی افواج کے انخلاء کا منصوبہ، طالبان جنگجواوران کے حمایتی خوش امریکی افغانستان سے نکلنے پر کیوں مجبور ہوئے ؟ حیران کن اعلان کر دیا

datetime 7  ستمبر‬‮  2019 |

کابل(این این آئی )طالبان کے وفادار اور حمایتی امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر خوش ہیں کہ اٹھارہ سال کی شدید جنگ کے بعد ’’شکست خوردہ‘‘ امریکی ’’حملہ آور‘‘ آخر کار افغانستان چھوڑ کر اپنے گھر واپس چلے جائیں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق طالبان اور امریکا کے مابین ہونے والے ممکنہ معاہدے کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ طالبان کی مختلف یقین دہانیوں کے عوض پینٹاگون اس ملک میں اپنے فوجیوں کی تعداد انتہائی کم کر دے گا۔ طالبان اور ان کے حمایتی اسے حوالے سے کیا سوچ رہے ہیں، اس حوالے سے قندہار میں متعدد طالبان جنگجوؤں اور ان کے حمایتیوں سے گفتگو کی ۔

یہ جنوبی صوبہ افغان طالبان کی جائے پیدائش بھی ہے اور ابھی تک اسے طالبان کا سب سے مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔محمد منظور حسینی ماضی میں طالبان کے لیے لڑتے رہے ہیں لیکن دو سال پہلے وہ پاکستان جا کر روپوش ہو گئے تھے اور اب دوبارہ قندہار آ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام افغان ایسا امن چاہتے ہیں، جس کی بنیاد اسلامی اقدارپر ہو۔ یہ بالکل ویسا ہی جملہ ہے، جو طالبان امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ابھی تک استعمال کرتے آئے ہیں۔حافظ محمد ولی زابل صوبے کے ڈسٹرکٹ شاہ جوی میں مالی کا کام کرتے ہیں۔ یہ صوبہ قندہار کے ساتھ ہی واقع ہے۔ وہ بھی یہ خبر سن کر خوش ہیں کہ امریکا اپنی فوجیں افغانستان سے نکال لے گا، ہم تقریبا بیس برسوں سے یہ خبر سننے کے انتظار میں تھے کہ امریکی شرمندگی کے ساتھ افغانستان سے نکل رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ لوگ اب اس ملک میں امن کی دعا کر رہے ہیں۔ ہم بہت لڑ چکے ہیں اور یہ لڑائی آج تک جاری ہے۔صوبہ ہلمند کی مارجہ ڈسٹرکٹ میں طالبان کمانڈر ملا گل آغا کا کہنا تھا کہ افغان کبھی بھی غیر ملکیوں کو اپنا ‘آقا‘ تسلیم نہیں کریں گے، افغان عشروں سے حملہ آوروں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ پہلے یہ روسی تھے لیکن آج امریکی اور برطانوی ہیں۔ خدائے عزوجل کی مدد سے ہم نے ایک مرتبہ پھر انہیں شکست دے دی ہے۔ ملا گل کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں چوبیس سو سے زائد امریکی فوجی مارے گئے ہیں اور ہزاروں شدید زخمی ہوئے ہیں، اب امریکا کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے سے پہلے دو مرتبہ سوچے گا، افغان غربت اور سادہ زندگی کو قبول کر لیں گے لیکن کسی کو اپنا آقا تسلیم نہیں کریں گے۔



کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…