ہفتہ‬‮ ، 18 اپریل‬‮ 2026 

امریکی افواج کے انخلاء کا منصوبہ، طالبان جنگجواوران کے حمایتی خوش امریکی افغانستان سے نکلنے پر کیوں مجبور ہوئے ؟ حیران کن اعلان کر دیا

datetime 7  ستمبر‬‮  2019 |

کابل(این این آئی )طالبان کے وفادار اور حمایتی امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر خوش ہیں کہ اٹھارہ سال کی شدید جنگ کے بعد ’’شکست خوردہ‘‘ امریکی ’’حملہ آور‘‘ آخر کار افغانستان چھوڑ کر اپنے گھر واپس چلے جائیں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق طالبان اور امریکا کے مابین ہونے والے ممکنہ معاہدے کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ طالبان کی مختلف یقین دہانیوں کے عوض پینٹاگون اس ملک میں اپنے فوجیوں کی تعداد انتہائی کم کر دے گا۔ طالبان اور ان کے حمایتی اسے حوالے سے کیا سوچ رہے ہیں، اس حوالے سے قندہار میں متعدد طالبان جنگجوؤں اور ان کے حمایتیوں سے گفتگو کی ۔

یہ جنوبی صوبہ افغان طالبان کی جائے پیدائش بھی ہے اور ابھی تک اسے طالبان کا سب سے مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔محمد منظور حسینی ماضی میں طالبان کے لیے لڑتے رہے ہیں لیکن دو سال پہلے وہ پاکستان جا کر روپوش ہو گئے تھے اور اب دوبارہ قندہار آ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام افغان ایسا امن چاہتے ہیں، جس کی بنیاد اسلامی اقدارپر ہو۔ یہ بالکل ویسا ہی جملہ ہے، جو طالبان امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ابھی تک استعمال کرتے آئے ہیں۔حافظ محمد ولی زابل صوبے کے ڈسٹرکٹ شاہ جوی میں مالی کا کام کرتے ہیں۔ یہ صوبہ قندہار کے ساتھ ہی واقع ہے۔ وہ بھی یہ خبر سن کر خوش ہیں کہ امریکا اپنی فوجیں افغانستان سے نکال لے گا، ہم تقریبا بیس برسوں سے یہ خبر سننے کے انتظار میں تھے کہ امریکی شرمندگی کے ساتھ افغانستان سے نکل رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ لوگ اب اس ملک میں امن کی دعا کر رہے ہیں۔ ہم بہت لڑ چکے ہیں اور یہ لڑائی آج تک جاری ہے۔صوبہ ہلمند کی مارجہ ڈسٹرکٹ میں طالبان کمانڈر ملا گل آغا کا کہنا تھا کہ افغان کبھی بھی غیر ملکیوں کو اپنا ‘آقا‘ تسلیم نہیں کریں گے، افغان عشروں سے حملہ آوروں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ پہلے یہ روسی تھے لیکن آج امریکی اور برطانوی ہیں۔ خدائے عزوجل کی مدد سے ہم نے ایک مرتبہ پھر انہیں شکست دے دی ہے۔ ملا گل کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں چوبیس سو سے زائد امریکی فوجی مارے گئے ہیں اور ہزاروں شدید زخمی ہوئے ہیں، اب امریکا کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے سے پہلے دو مرتبہ سوچے گا، افغان غربت اور سادہ زندگی کو قبول کر لیں گے لیکن کسی کو اپنا آقا تسلیم نہیں کریں گے۔



کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…