جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

ایم ٹی آئی آرڈیننس کا مقصد سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری نہیں بلکہ کیا ہے؟،وزیراعظم عمران خان نے وضاحت کردی

datetime 5  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ (ایم ٹی آئی) آرڈیننس کے تحت سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری نہیں کی جارہی بلکہ اس کا مقصد انتظامی امور اور طبی سہولیات کی فراہمی میں ’اصلاحات‘ لانا ہے۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ یا آرڈیننس کا مقصد سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری نہیں ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارا منصوبہ ایم ٹی آئی آرڈیننس کے ذریعے سرکاری ہسپتالوں کی اصلاح کرنا ہے۔واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں رواں ہفتے متنازع آرڈیننس ایم ٹی آئی منظور کیا گیا جس کے بعد آج وزیراعظم کا بیان سامنے آیا۔ایم ٹی آئی آرڈیننس کی منظوری کے بعد ینگ ڈاکٹروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔عمران خان نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’ہسپتالوں کی (انتظامی) حیثیت بدستور سرکاری ہی رہے گی‘۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’بہتر نظم کے حامل ہسپتال مریضوں کو بہتر سہولیات مہیا کریں گے‘۔خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں ایم ٹی آئی ایکٹ 2015 میں نافذ ہوا تھا۔مذکورہ ایکٹ کے تحت ٹیچنگ ہسپتالوں میں پرنسپل اور ایم ایس کے عہدے تحلیل کردیے جاتے ہیں اور بورڈ آف گورنرز کی جانب سے ڈین، ہسپتال ڈائریکٹرز، میڈیکل ڈائریکٹرز، نرسنگ ڈائریکٹرز منتخب کیے جاتے ہیں۔ایم ٹی آئی آرڈیننس کے تحت بورڈ آف گورنرز میں بھی ’نجی شبعوں سے منسلک ماہرین‘ ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ رواں برس اپریل میں حکومت پنجاب نے ایم ٹی آئی ایکٹ بحث کے لیے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔بعدازاں مئی میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائے ڈی اے) کی جانب سے ایم آئی ٹی ایکٹ کے نفاذ کے خلاف پشاور، لاہور، سرگودھا، راولپنڈی، ملتان اور فیصل آباد میں احتجاج کیا گیا اور آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ (او پی ڈی) کا بھی بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ینگ ڈاکٹرز نے دعویٰ کیا تھا کہ ایم آئی ٹی ایکٹ کے نافذ کے بعد پرچی کی قیمت 50 روپے، مفت ٹیسٹ 800 اور سی ٹی اسکین 8 ہزار روپے کا ہوجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…