ہفتہ‬‮ ، 18 اپریل‬‮ 2026 

میں طالبان کیساتھ امن معاہدے پر دستخط نہیں کروں گا کیونکہ۔۔ امریکی وزیر خارجہ نے انکار کرتےہوئے کیا دھماکہ خیز اعلان کر دیا

datetime 5  ستمبر‬‮  2019 |

واشنگٹن( آن لائن )امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط سے انکار کر دیا، امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پومپیو سمجھتے ہیں دستخط کرنا طالبان کو اصل سیاسی قوت کے طور پر تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا. امریکی جریدے نے امریکی عہدے داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ممکنہ معاہدے سے منسلک شدید نوعیت کے خدشات کے باعث وزیر خارجہ

مائیک پومپیو نے اس پر دستخط سے انکار کر دیا ہے.اس معاہدے میں کئی اہم چیزوں سے متعلق یقین دہانی موجود نہیں ہے، معاہدے میں القاعدہ کے خلاف جنگ کے لیے امریکہ کی انسداد دہشت گردی فورسز کی مسلسل موجودگی کی ضمانت فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی یہ گارنٹی موجود ہے کہ کابل کی امریکہ نواز حکومت قائم رہے گی، جب کہ افغانستان میں لڑائیوں کے خاتمے کی بھی یقین دہانی نہیں کرائی گئی. واضح رہے کہ دو روز قبل افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے افغان طالبان سے دوحہ میں طے پانے والے مجوزہ معاہدے کا مسودہ لے کر افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے لیے کابل پہنچے تھے اور انہوں نے افغان صدر کور مجوزہ معاہدے کا مسودہ دکھا دیا تھا.زلمے خلیل زاد دوحہ میں طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات کے کئی دور کر چکے ہیں اور اس دوران تقریبا ایک سال کا عرصہ گزار چکے ہیں کیونکہ ان مذاکرات کا مقصد افغانستان میں جاری 18 سالہ طویل امریکی جنگ کا خاتمہ کرنا ہے. مجوزہ معاہدے کا مرکز امریکی فوج میں کمی، عسکریت پسندوں اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات اور جنگ بندی کے ساتھ ساتھ طالبان سے کئی ضمانتوں کے گرد گھومتا ہے.واضح رہے کہ امریکی سیکرٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے فریقین کے مابین یکم ستمبر سے قبل امن معاہدہ طے پانے کا عندیہ دیا تھا. مذاکراتی ا دور میں دونوں فریقین کے مابین افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے دو اہم نکات زیر بحث رہے جس میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا سمیت طالبان اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردوں کی آماجگاہ نہیں بننے دیں گے جو عالمی حملے کرسکے.13 مارچ کو زلمے خلیل زاد نے افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے تازہ دور میں دونوں فریقین نے بڑی کامیابیوں کا دعوی کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ فوجیوں کے انخلا اور انسداد دہشت گردی کو یقینی بنانے کے مسودے پر متفق ہیں. مائیک پومپیو نے 26 جون کو افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے میں صدر اشرف غنی سے ملاقات میں طالبان سے جاری امن مذاکرات اور ستمبر میں افغان صدارتی انتخاب سے قبل سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا.



کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…