جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کیا آپ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گردوں کو خراب کر رہے ہیں ، ماہرین کا انتباہ جاری

datetime 28  اگست‬‮  2019 |

نیویارک(نیوز ڈیسک)بعض اوقات کسی ایک بیماری کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات کا زیادہ استعمال دیگر بیماریوں کا بھی باعث بن سکتا ہے اور امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سینے کی جلن کی دوا کا زیادہ عرصے تک استعمال گردوں کے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔امریکا میں کی جانے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ماہرین طب سینے میں جلن کے مریضوں کو

بیماری کے بڑھنے پر پروٹون پمپ انہیبیٹر (پی پی آئی) نامی ادویات کے محدود وقت تک استعمال کا مشورہ دیتے ہیں جن سے پیٹ میں تیزابیت کا خاتمہ ہوتا ہے جب کہ یہ ادویات سینے کی جلن اور السر کے علاج کے لیے بھی مفید ہوتی ہیں۔اس تحقیق کے دوران امریکی تحقیق کاروں نے ایک لاکھ 70 ہزار لوگوں کا معائنہ کیا جو پی پی آئی ادویات استعمال کررہے تھے اور 20 ہزار ایسے لوگ جو متبادل ادویات کا استعمال کر رہے تھے۔ تحقیق کاروں کے مطابق 5 سال کی تحقیق کے بعد یہ بات سامنےآئی کہ پی پی آئی استعمال کرنےوالے 28 فیصد مریضوں کوگردوں کی مستقل بیماری کا خطرہ تھا اور 98 فیصد کو گردوں کے فیل ہونے کا خطرہ لا حق تھا۔برطانیہ میں پی پی آئی ادویات کی فروخت کی اجازت ہے جن کی مدد سے ہرسال لاکھوں لوگوں کا علاج ہوتا ہے۔ ان میں اومیپرازول، ایس اومیپرازول، لینسوپرازول، پینٹوپرازول اور ریبپرازول شامل ہیں جو کسی بھی دوا خانے سے خریدی جا سکتی ہیں۔واضح رہے کہ پروٹان پمپ معدے کے اندر قدرتی طور پر پایا جاتا ہے جو وہاں ہائیڈروکلورک ایسڈ ( ایچ سی ایل) پیدا کرتا ہے۔ یہ ادویات اس پمپ کو بند کر دیتی ہیں جس سے تیزاب کی پیداوار مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے اور معدے کی جلن کے مریضوں کو افاقہ ہوتا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…