ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

آج کشمیر پرفیصلہ نہ کیا گیا تو پاکستان مستقبل میں پانی کی بوند بوند کو ترسے گا،ثالثی کی بات امریکہ کا سوچا سمجھا منصوبہ، بھارت کا اگلا ہدف کیا ہے؟ سراج الحق نے اہم انکشاف کر دیا

datetime 7  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)امیرجماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی بقا اور ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے،کشمیر کے لئے لڑنا اور مرنا پاکستان کے لئے ہی لڑنا مرنا ہے،کشمیر کو پاکستان سے جدا نہیں کیا جاسکتا، بھارت کا اگلا ہدف گلگت اور آزاد کشمیر ہے، اگر آج کشمیر پرفیصلہ نہ کیا گیا تو پاکستان مستقبل میں پانی کی بوند بوند کو ترسے گا۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ امریکہ قابل اعتماد نہیں،

ماضی میں وہ کئی بار ہمیں دھوکہ دے چکا ہے۔ثالثی کی بات امریکہ کا سوچا سمجھا منصوبہ تھا،امریکہ اور بھارت سٹریٹجک پارٹنر ہیں،بظاہر یہی لگتا ہے کہ ٹرمپ نے مودی کے منصوبے کے مطابق بات کی۔امریکہ پاکستان کو کسی صورت بھی بھارت پر ترجیح نہیں دے گا۔امریکہ نے اگر واقعی ثالثی کرنا ہوتی تو اگلے ہی دن کشمیرکو بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار نہ دیتا۔حکومت اس مسئلہ پر اسلام آباد میں فوری طور پر بین الاقوامی کانفرنس بلائے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہمیں جو کچھ کرنا ہے اپنی قوت بازوپر کرنا ہے۔امریکہ سمیت عالمی طاقتوں نے پہلے کبھی ہمارا ساتھ دیا ہے نہ آئندہ دیں گی۔دنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ ایک امتیازی اور متعصبانہ رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔مسلم ممالک سے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو مختصر مدت میں کاٹ کرالگ کر دیا گیا مگرفلسطین اور کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے چارٹر پر ستر سال سے موجود ہے اور سینکڑوں قرار دادوں کے باوجود اس مسئلے کو حل نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مسئلہ کے حل کیلئے عالمی برادری سے رجوع ضرور کرنا چاہئے۔دنیابھر میں موجود پاکستانی سفارت خانوں کو مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے خصوصی مہم چلانے کی ہدایت کی جائے اور سفارتخانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کئے جائیں۔انہو ں نے کہا کہ حکومتی اور اپوزیشن پارلیمنٹیرین پر مشتمل پارلیمانی وفود مختلف ممالک میں بھجوائے جائیں اور

عالمی برادری کو ہندوستان کے مظالم اور مسئلہ کشمیر کی صورتحال پر اعتماد میں لیا جائے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہمیں امریکہ کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں۔ہمیں جو بھی فیصلہ کرنا ہے جلد ازجلد کرگزرنا چاہئے۔اگر ہم نے اس موقع کو ضائع کردیا تو پھر شاید یہ موقع دوبارہ کبھی نہ ملے۔انہو ں نے کہا کہ حکومت کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں پوری تیاری کے ساتھ آنا اور ایک واضح لائحہ عمل دینا چاہئے تھا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بھارت کو جواب دینے کیلئے

پوری قوم حکومت کے ساتھ ہے اور اپوزیشن بھی کہتی ہے کہ وزیر اعظم قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر اب قدم تو حکومت نے اٹھانا ہے اور قدم اٹھانے کے لیے اسے اب مزید وقت ضائع نہیں کرناچاہیے۔ سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ کشمیر پاکستان،بھارت، چین اور روس چار ایٹمی طاقتوں کے درمیان گھرا ہواہے۔ اگر کشمیر میں جنگ چھڑتی ہے تو پورا خطہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے گا۔ ایک چنگاری سے بھڑکنے والی آگ پورے خطے اور پھر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

کشمیر کے امن سے خطے کا امن وابستہ ہے اس لیے عالمی برادری کو کشمیر میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں کشمیریوں کا ساتھ اس لیے نہیں دینا کہ کشمیر کا پاکستا ن سے الحاق ہو جائے بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے اور ہمیں اللہ کا حکم بجا لانا ہے۔ کشمیری پاکستان کی سا لمیت اور بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کشمیر کا ہر باشندہ خود کو پاکستانی کہتاہے۔ کشمیری شہداء کی قبروں پر پاکستا ن کے پرچم لہرا رہے ہیں اور ہر شہید وصیت کرتاہے کہ اسے پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جائے۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ان مظلوم کشمیریوں کا ساتھ دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…