منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

شہباز شریف، بلاول زرداری اور مولانا اسعد محمود کی پریس کانفرنس،پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے 14 سینیٹرز کیخلاف کارروائی کا اعلان کردیاگیا

datetime 1  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)اپوزیشن نے پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے 14 سینیٹرز کو بے نقاب کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن چودہ ارکان نے اپنا ضمیر بیچا ان کی نشاندہی کرینگے،اپنی پارٹی کی پیٹھ پر چھرا گھونپنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے،اگلے ہفتے ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں سینٹ میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ پر بات کریں گے، سلیکٹڈ حکومت نے سینٹ کو بھی سلیکٹڈ کر دیا،

خفیہ ووٹنگ میں 14 ووٹ کم پڑے،اخلاقی طور پر چیئرمین سینیٹ کو اب بھی مستعفی ہوجانا چاہیے،سینیٹر شبلی فراز کس چیز کی فتح پر ڈیسک بجا رہے تھے؟ کیا وہ ضمیر فروشی پر ڈیسک بجارہے تھے؟ہم سینٹ میں اصلاحات لائینگے۔ جمعرات کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے بعد اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی زیرصدارت اپوزیشن رہنماؤں ہنگامی اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ جن 14 سینیٹرز نے دھوکا دیا انہیں بے نقاب کیا جائے گا۔اجلاس کے بعد چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ اجلاس میں پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے اراکین کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ جن 14 ارکان نے اپنا ضمیر بیچا ان کی نشاندہی کریں گے، ہم اگلے ہفتے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائیں گے جس میں زیر بحث آنے والے آپشنز پر غور کریں گے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم نے طے کیا ہے کہ سینیٹ کے ہر اجلاس میں بھرپور شرکت کریں گے، سینیٹ کے اجلاس میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ پر بات کریں گے۔شہباز شریف نے الزام عائد کیا کہ سلیکٹڈ حکومت نے سینٹ کو بھی سلیکٹڈ کر دیا، خفیہ ووٹنگ میں 14 ووٹ کم پڑے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ برس جو دھاندلی زدہ الیکشن ہوئے تھے اس کی تاریخ دہرائی گئی ہے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ تمام جماعتوں نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ جن 14 ارکان نے ضمیر فروشی کی ہم ان کی نشاندہی کرکے عوام کے سامنے انہیں بے نقاب کریں گے۔

اس موقع پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سینیٹ میں جمہوریت پر کھلے عام حملہ کیا گیا، جب تحریک پیش کی گئی تو 64 سینیٹرز نے کھڑے ہوکر حمایت کی لیکن خفیہ رائے شماری میں تعداد کم ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ بعض اراکین کے انحراف کے باوجود 50 سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ کیخلاف ووٹ دیا لہٰذا اخلاقی طور پر چیئرمین سینیٹ کو اب بھی مستعفی ہوجانا چاہیے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ سینیٹ پر حملہ ہے جس کا حساب لیا جائیگا،

ہم اپنی جماعت میں بھی دیکھیں گے کہ وہ کون تھا جو دباؤ میں آیا، کون تھا جس نے اپنا ضمیر بیچا، 14 سینیٹرز نے اپنی پارٹی کی پیٹھ پر چھرا گھونپا ہے ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے۔بلاول نے حکومت کو خبردار کیا کہ حکومت یہ نہ سمجھے کہ متحدہ اپوزیشن اس کا پیچھا چھوڑ دیگی، یہ سلسلہ جاری رہے گا، اے پی سی بلائی جارہی ہے، ہم یہ لڑائی سینیٹ میں لڑیں گے، سینیٹ میں اصلاحات لے کر آئیں گے، سینیٹ میں صاف و شفاف الیکشن کرانے کیلئے اصلاحات لے کر آئیں گے، رولز کو دیکھیں گے اور اس چیئرمین سینیٹ کا مقابلہ کریں گے۔

بلاول نے استفسار کیا کہ سینیٹر شبلی فراز کس چیز کی فتح پر ڈیسک بجا رہے تھے؟ کیا وہ ضمیر فروشی پر ڈیسک بجارہے تھے؟چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن متحد ہے، سڑکوں اور پارلیمنٹ میں جدوجہد جاری رہے گی، آج جیت جاتے تو بھی جیت تھی لیکن ہار میں بھی ہماری جیت ہے کیوں کہ ہم نے ہار کر کٹھ پتلی سینیٹرز کو بے نقاب کردیا ہے۔اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے مولانا اسد محمود نے کہا کہ سینٹ میں بد ترین ہارس ٹریڈنگ کی گئی۔انہوں نے کہ اکہ اپوزیشن کی تحریک پر 64 ووٹ پڑے، دباؤ کے تحت سینیٹرز نے فیصلہ بدلا، بتائیں طاقت کا استعمال ہوا یا پیسہ لگا؟انہوں نے کہا کہ 25 جولائی 2018 کو جو دباؤ تھا وہی دباؤ اب بھی ہے لیکن ہم نے نہ اس دباؤ کو مانا اور نہ اب مانیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…