اسلام آباد(نیوز ڈیسک )برطانیہ میں طالب علموں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے سکولوں کو خاصں سافٹ ویئر دیے جا رہے ہیں۔اس سافٹ ویئر کی مدد سے اگر طالب علم دہشت گردی سے متعلق کوئی خاص اصطلاح استعمال کریں یا سکول کے کسی کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ پر کوئی انتہا پسند ویب سائٹس دیکھیں گے تو اساتذہ کو ایک الرٹ چلا جائے گا۔اساتذہ کو کہا گیا ہے کہ اگر وہ کوئی ایسا انفرادی واقعہ دیکھیں تو خطرے کی گھنٹی بجانے کی بجائے طالب علموں کے رویے میں تبدیلی پر غور کریں۔فروری میں منظور ہونے والے انسدادِ دہشت گردی اور سکیورٹی ایکٹ کے تحت سکولوں کو پہلے ہی کہا گیا ہے کہ وہ بچوں کو ریڈیکل ہونے سے بچائیں۔لیکن نیشنل یونین آف ٹیچرز نے کہا ہے کہ اس سے متنازع مسائل پر بحث بند ہونے کا خدشہ ہے۔یونین نے یہ بھی کہا کہ کچھ اساتذہ کو خوف ہے کہ اگر انھوں نے صورتِ حال سے غلط طریقے سے نمٹنے کی کوشش کی تو ان پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔یہ مسئلہ اس وقت اجاگر ہوا جب لندن کے ایک سکول کی تین لڑکیاں فروری میں شام چلی گئیں اور گمان ہے کہ وہ اس وقت دولت اسلامیہ کے گڑھ رقہ میں ہیں۔
اس وقت ان کے خاندان والوں نے شکایت کی تھی کہ پولیس، سکول اور مقامی انتظامیہ نے ان سے وہ معلومات چھپا کے رکھے تھے جن سے ان لڑکیوں کو جانے روکا جا سکتا تھا۔ریڈیکل ہونے والے بچوں کی تعداد میں کافی زیادہ اضافے کی خبروں کے بعد یہ ضروری ہو گیا ہے کہ سکول ایسے اقدامات کریں جس سے طالبِ علموں کو آن لائن خطرے سے بچایا جا سکےسیلی این گریفتھس، امپیرو سافٹ ویئرجوناتھن رسل قویلیئم فاو¿نڈیشن کے سیاسی رابطہ کار ہیں جس نے یہ سافٹ ویئر بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’انٹرنیٹ نے نوجوانوں کے لیے انتہا پسند اور ریڈیکل مواد تک رسائی آسان کر دی ہے۔‘اگرچہ برطانوی حکومت کی ’پریوینٹ سٹریٹیجی‘ یعنی کہ روکنے کی حکمتِ عملی پہلے ہی موجود ہے لیکن اب یہ واضح ہوا ہے کہ شروع میں ہی انتہا پسندی کے رجحان کو روکنے کے لیے مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔نوجوانوں کو ریڈیکلائزیشن کے خطرات سے بچانے کے لیے ایک آن لائن حکمتِ عملی درکار ہے اور اساتذہ کو ’امپیرو سافٹ ویئر‘ جیسی ٹیکنالوجی دینا اس عمل کا اہم حصہ ہے۔امپیرو سافٹ ویئر کی سیلی این گریفتھس، جنھوں نے یہ پروگرام ڈیزائن کیا ہے، کہتی ہیں کہ ’ریڈیکل ہونے والے بچوں کی تعداد میں کافی زیادہ اضافے کی خبروں کے بعد یہ ضروری ہو گیا ہے کہ سکول ایسے اقدامات کریں جس سے طالبِ علموں کو آن لائن خطرے سے بچایا جا سکے۔‘
انتہا پسندی کا رجحان، سافٹ ویئر کی مدد سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
گرمی کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے موسم گرما کی تعطیلات کا شیڈول جاری کردیا
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
اسلام آباد میں 30 سالہ فرخ چوہدری کے اغواء اور ہلاکت کا معمہ حل
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
گاڑیوں کی خریداری۔۔! نیا حکم نامہ جاری
-
پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے
-
ایران امریکا جنگ: یو اے ای میں رہنا پاکستانیوں کیلئے مشکل ہوگیا، سیکڑوں ہم وطن واپس پہنچ گئے
-
قیامت خیز گرمی سے 9 افراد جاں بحق، 2 روز میں اموات 19 ہوگئیں



















































