جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ماحولیاتی تبدیلی : پاکستان سمیت دنیا بھر میں شدید سیلاب کا امکان پیدا ہو گیا آئندہ 25 سالوں کونسا خوفناک سیلاب آسکتاہے ؟محققین نے خبردار کر دیا

datetime 10  جولائی  2019 |

کراچی(این این آئی)محققین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی ماحولیاتی تبدیلی سے مستقبل قریب میں بارشوں اور سیلاب کا امکان ہے جس کی لپیٹ میں آکر امریکا اور ایشیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے کروڑوں لوگ متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ پاکستان میں اس کی شدت دگنی ہوجائے گی۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق اسٹڈی ان دی جنرل سائنس ایڈوانسز کی ایک رپورٹ میں آئندہ 25 سالوں میں بڑے سیلاب کے

خطرات کے پیش نظر اس بات کا حساب لگایا گیا ہے کہ سیلاب سے محفوظ رہنے کے لیے مزید کیا اقدامات کی ضرورت ہوگی۔رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ایشیا ہوگا جس کے باعث 2040 تک ایک کروڑ 60 لاکھ لوگ بے گھر ہوجائیں گے یا نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوں گے۔پاکستان کے حوالے سے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی گئی تو 2040 تک سیلاب کے متاثرین کی تعداد 1 کروڑ 11 لاکھ سے زائد ہوگی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوبی امریکا میں بھی سیلا ب متاثرین کی تعداد اسی دورانیے میں 1 کروڑ 20 لاکھ جبکہ افریقی ممالک میں 3 کروڑ 40 لاکھ شہری بے گھرہو سکتے ہیں۔عالمی ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے یورپی ممالک خصوصا جرمنی میں بھی متاثرین کی تعداد موجودہ اعداد و شمار کے مقابلے میں 7 گنا بڑھ کر تقریبا 7 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔دوسری جانب شمالی امریکا میں بارش اور سیلابی ریلے سے 10 لاکھ لوگ بے سرو ساماں ہو سکتے ہیں۔پوسٹوم انسٹی ٹیوٹ فار کلائمیٹ ریسرچ کے محقق اور مصنف ایسوین ویلنر نے امریکا کو خبر دار کیا اگر اگلے 20 برسوں میں امریکا کو سیلابی افتاد سے بچنے میں دلچسپی ہے تو واشنگٹن کے اختیار کردہ موجودہ حفاظتی عمل کو دگنا کرنا ہوگا۔اگلے چند برسوں میں سیلابی صورتحال بننے کی بڑی وجہ حیاتیاتی ایندھن کا اخراج ہے جس پر قدغن لگانے کی اشد ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…