ماسکو(نیوزڈیسک )دو جون 1955ء میں ماسکو کی سابقہ سوویت یونین حکومت نے اس خلائی مرکز کو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور جون 1961ءمیں یہاں سے انتہائی فخریہ انداز میں انسان کو خلاء میں بھیجا گیا تھا۔ تاہم خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات کے ساتھ بیکانور خلائی مرکز کی ساٹھویں سالگرہ منائی جا رہی ہے کیونکہ روسی خلائی پروگرام اس وقت اپنے شدید ترین بحران سے گزر رہا ہے۔ ابھی کچھ دنوں قبل ہی بیکانور سے خلاء میں بھیجے جانے والے راکٹوں کے دو تجربے ناکام ہوئے اور ان واقعات نے خلائی سفر کے حوالے سے اپنے اوپر فخر کرنے والی روسی قوم کے ارادوں اور اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ ان میں سے ایک راکٹ بین الاقوامی خلائی مرکز کے لیے سامان لے جانے کے دوران بے قابو ہو گیا جبکہ دوسرا خلاءمیں موجود ایک دوسرے سیٹیلائٹ سے ٹکرا کر سائبیریا کے گھنے جنگلات میں گر گیا۔ اس کے بعد سے بیکانورسے راکٹ خلاء میں بھیجنے پر پابندی ہے۔ اس حوالے سے روسی انجینیئرز کا کہنا ہے کہ ” یہ معمول کی بات ہے‘۔قزاقستان کا بیکانور مرکز دنیا کا سب سے بڑا خلائی سینٹر ہے۔ دو جون کو اس مرکز کے ساٹھ برس پورے ہو رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ غیر واضح ہے کہ روس اسے مزید کتنے عرصے تک استعمال کرنا چاہتا ہے۔ 1955ئ میں سابقہ سوویت دور میں اس خلائی مرکز کی تعمیر کو انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا اور اسے ایک قومی راز کا درجہ دیا گیا تھا۔تاہم اس کی کامیابی تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ آج بھی قزاقستان کا یہ علاقہ کافی حد تک خفیہ ہی رکھا گیا ہے۔روسی صدر ولادی میر پوٹن نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ بیکانور کی تعمیر روسی قوم کی جانب سے ایک کارنامے سے کم نہیں تھی کیونکہ دوسری عالمی جنگ کو ختم ہوئے ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔“ 1957ء اس مرکز کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب یہاں بین البراعظمی میزائل کا ٹیسٹ کیا گیا۔یہ خلائی مرکز ماسکو سے ڈھائی ہزار کلومیٹر جنوب مشرق کی جانب ایک غیر آباد علاقے میں واقع ہے۔ خط استوا کے نزدیک ہونے کی وجہ سے یہاں سے روانہ کیے جانے والے راکٹ اور خلائی جہاز اپنے مقررہ مدار میں نسبتاً جلدی پہنچ جاتے ہیں۔بیکانور میں بارہ مقامات سے راکٹ یا جہازوں کو خلائ میں بھیجا جا سکتا ہے لیکن یہ تمام فعال نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی عمارتیں اور سڑکیں تباہی کا شکار ہیں جبکہ موسم کی شدت بھی اس مرکز کو بہت تیزی سے بوڑھا کر رہی ہے۔ گرمی میں یہاں درجہ حرارت پچاس سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے جبکہ سردی میں اس علاقے کا درجہ حرارت منفی پچاس تک ہو جاتا ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
گرمی کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے موسم گرما کی تعطیلات کا شیڈول جاری کردیا
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
اسلام آباد میں 30 سالہ فرخ چوہدری کے اغواء اور ہلاکت کا معمہ حل
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
گاڑیوں کی خریداری۔۔! نیا حکم نامہ جاری
-
پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے
-
ایران امریکا جنگ: یو اے ای میں رہنا پاکستانیوں کیلئے مشکل ہوگیا، سیکڑوں ہم وطن واپس پہنچ گئے
-
قیامت خیز گرمی سے 9 افراد جاں بحق، 2 روز میں اموات 19 ہوگئیں



















































