سکھر(این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے کہاہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اسد عمر کو آئی ایم ایف کی خواہش پر ہٹایا، نئی معاشی ٹیم لاکر عوام کو بھوکا مارنے کا منصوبہ ہے ،حکومت نے بجٹ سے پہلے ہی تباہی مچا دی ہے،توقع تھی حکمران رمضان سے پہلے آئل قیمتیں بڑھانے کی بیوقوفی نہیں کریں گے۔
موجودہ حکومت نا اہل ثابت ہوئی، ہر چیز ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے ،ملک کے غریب لوگ ایک روٹی کے محتاج تھے،اب شاید روزہ بھی نہ کھول سکیں ۔اتوار کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے اسد عمر کو آئی ایم ایف کی خواہش پر ہٹایا۔ خورشید شاہ نے کہاکہ میری انفارمیشن ہے اسد عمر کو ہٹانے میں باقر رضا کو استعمال کیا گیا۔ خورشید شاہ نے کہاکہ باقر رضا کے ذریعے پیغام پہنچایا گیا کہ آئی ایم ایف اسد عمر سے خوش نہیں۔ خورشید شاہ نے کہاکہ یہ بھی بتا دیا گیا کہ اسد عمر کی موجودگی میں آئی ایم ایف پیکج نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف سخت فیصلے نہ کرنے پر اسد عمر سے ناخوش تھی۔ انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف سمجھتی تھی اسد عمر کو کچھ پتہ نہیں۔ گورنر اسٹیٹ بنک اور ایف بی آر سربراہ کی تبدیلی پر خورشید شاہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ نئے فنانس منسٹر کا حق ہے اپنی مرضی کی ٹیم لائے مگر لگ یہ رہا کہ یہ ٹیم لا کر عوام کو بھوکا مارنے کا منصوبہ ہے۔ خورشید شاہ نے کہاکہ حکومت نے بجٹ سے پہلے ہی تباہی مچا دی ہے۔ خورشید شاہ نے کہاکہ رمضان میں مہنگائی ویسے ہی تیس چالیس فیصد بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ توقع تھی رمضان سے پہلے آئل قیمتیں بڑھانے کی بیوقوفی نہیں کریں گے۔
خورشید شاہ نے کہاکہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کی بجائے سارا بوجھ غریبوں پر ڈال دیا گیا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ یہ سارے پیسے غریبوں سے نچوڑ کر اپنی حکومت چلانا چاہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تصور بھی نہیں تھا کہ تیل کی قیمت 122 روپے لٹر ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے دور میں تیل 140 ڈالر فی بیرل اور اب 70 ڈالر فی بیرل ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ حکومت نا اہل ثابت ہوئی، ہر چیز ہاتھ سے نکلی جا رہی۔ خورشید شاہ نے کہاکہ ملک کے غریب لوگ ایک روٹی کے محتاج تھے،اب شاید روزہ بھی نہ کھول سکیں۔
انہوں نے کہاکہ تیل کی قیمتیں بڑھا دی گئیں، دوائوں کی قیمت تین چار سو فیصد بڑھا دی۔ خورشید شاہ نے کہاکہ حکومت بتائے دوائوں کی قیمتیں کیوں بڑھی، کس کے کہنے پر بڑھی۔ انہوں نے کہاکہ کیا دوائوں کی قیمتیں بڑھانے میں قائد اعظم استعمال ہوا۔ انہوں نے کہاکہ یہ عوام کا ٹریلین کا نقصان ہے نوٹس کیوں نہیں لیا جاتا۔ خورشید شاہ نے کہاکہ ہم کہتے تھے آئی ایم ایف کے پاس بروقت جائو۔انہوںنے کہاکہ کہا تھا جب آپ پھنس چکے ہو گئے پھر جائو گے تو آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہوں گی۔ انہوں نے کہاکہ یہ آئی ایم ایف کے پاس اب گئے جب پھنس چکے ہیں۔



















































