جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

ہم ہرگز یہ قبول نہیں کریں گے،قبائلیوں کے زخم کئی نسلوں تک نہیں بھر سکیں گے،عمران خان کو کس ایجنڈے کے تحت ہم پر مسلط کیا گیا؟ فضل الرحمان کا انٹرویو میں انکشاف

datetime 2  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)جے یو آئی (ف) اور متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ نیشنل ایکشن پلان دراصل دینی مدارس اور دینی جماعتوں کے خلاف بنائے گئے امتیازی قوانین ہیں،ہم ہرگز نہیں قبول کریں گے،پاکستان میں کسی بھی قسم کی جنگ کو جائز نہیں سمجھتے،قبائلیوں کے زخم کئی نسلوں تک نہیں بھر سکیں گے،عمران خان کو بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت ہم پر مسلط کیا گیا ہے،موجودہ حکومت ختم ہوگی تو ملک کی معیشت بہتر ہوگی،سیاسی جماعتوں کے

جلسوں کو ٹی وی پر نشر تک نہیں کیا جاسکتا، رائے عامہ کی آواز کو دبایا جا رہا ہے، حقائق کو تسلیم کیا جائے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مولا نا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اقدامات کر رہے ہیں، ہم نے جتنی تحاریک چلائیں ان میں کوئی بھی غیر قانونی اقدام نہیں کیا گیا، تمام مکاتب فکر کے علماء نے بھی کہا ہے کہ ہم پاکستان میں کوئی جنگ نہیں چاہتے۔انہوں نے کہا کہ آج ایک بھی قبائلی پاکستان کے نظام سے مطمئن نہیں، ہم پاکستان میں کسی بھی قسم کی جنگ کو جائز نہیں سمجھتے،قبائلیوں کے زخم کئی نسلوں تک نہیں بھر سکیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کئی ایک سو سے بھی کم مدارس کو مبہم رکھتے ہوئے 30ہزار سے زائد مدارس کو مشکوک بنانا درست نہیں، وزارت تعلیم کے پاس صلاحیت ہی نہیں کہ وہ دینی مدارس چلا سکیں،نیشنل ایکشن پلان دراصل دینی مدارس اور دینی جماعتوں کے خلاف بنائے گئے امتیازی قوانین ہیں جسے ہم ہرگز نہیں قبول کریں گے، ہم اس کیلئے سڑکوں پر ہیں، اگر ہمارے بغیر فیصلے ہوئے تو انہیں ہرگز نہیں مانیں گے، موجودہ پیدا ہونے والی صورتحال کو نہ تو قبول کرسکتے ہیں اور نہ ہی برداشت کر سکتے ہیں۔ سربراہ جے یوآئی (ف) نے کہا کہ عام انتخابات میں تاریخ کی بدترین دھاندلی کی گئی،اپنی پسند کے لوگ سامنے لائے گئے، آج حکومت میں شامل جماعتیں بھی کہہ رہی ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے، یہ دھاندلی کے تحت بننے والی حکومت نااہل ہے،اس کی نااہلی کی وجہ سے

ہی معیشت تباہ ہوئی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت ہم پر مسلط کیا گیا ہے، عالمی مارکیٹ میں ہمارے ملک کی کوئی حیثیت نہیں، معیشت کے حوالے سے غیر ملکی اداروں کی رپورٹس بھی مایوس کن ہیں، جو ٹھیک نہ ہوسکے اسے مٹ جانا چاہیے،یہ حکومت ختم ہوگی تو ملک کی معیشت بہتر ہوگی، اس نااہل حکومت کے خاتمے کے بعد دوبارہ الیکشن کرایا جائے، اس کیلئے تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں لیکن کوئی حرکت

میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب پورے ملک سے کرپشن کے خاتمے کیلئے بنایا گیا ادارہ ہے لیکن اس کا استعمال صرف سیاستدانوں پر ہو رہا ہے باقیوں سے سودے بازی کی جا رہی ہے،ا س حکومت کی ناکامی کی مکمل ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ پر ہے۔انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کے جلسوں کو ٹی وی پر نشر تک نہیں کیا جاسکتا، رائے عامہ کی آواز کو دبایا جا رہا ہے، حقائق کو تسلیم کیا جائے، اگر نہیں کریں گے تو تباہ ریاست ہی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…