بدھ‬‮ ، 08 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر میزائلوں سے حملہ کیا وہاں پر بھارتی آرمی چیف بھی موجود تھے لیکن ان کو براہ راست ٹارگٹ کرنے کے بجائےجنرل بپن راوت کے دائیں بائیں میزائل کیوں گرائے گئے؟سنسنی خیز انکشافات

datetime 30  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور نے ایک اہم پریس کانفرنس کی جس میں سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر بھی شریک تھے ۔ اس اہم پریس بریفنگ کے بعد نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بریفنگ کا بنیادی مقصد یہ نظر آرہا تھا ۔

جب فروری کے آخر میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی تھی اور پاکستان نے انڈیا کے جہاز بھی گرائے تھے تو ان دنوں میں پاکستانی فوج کا جو ردعمل تھا وہ کافی سخت تھااو ر انڈیا کا کافی نقصان ہوا تھا لیکن پاکستان نے کوشش کی تھی کہ صورتحال زیادہ کشیدہ نہ ہو تو جو انڈیا کا نقصان ہورہا تھا اور جو کارروائی پاکستانی فوج کررہی تھی اس کا اعلان نہیں کیا جارہا تھا۔تو اب جبکہ ہندوستان کا میڈیا اور حکومت ہے وہ اب بھی کشیدگی ختم کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہا تو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سوالات کے انداز میں کچھ معلومات دنیا کے ساتھ شیئر کی ہے بس صرف انہوں نے یہ بتایا ہے کہ جب آپ میزائل کی بات کررہے تھے میزائل فائر کرنے کی تیاری کررہے تھے توہم نے ایک دو نہیں چھ میزائل آپ پر فائر کئے تھے اور جو مقبوضہ جموں کشمیر میں ایک نوشہرہ کا علاقہ ہے وہاں پر جو بریگیڈ ہیڈ کوارٹر ہے انہوں نے یہ کھلے الفاظ میں کہا کہ وہاں پر حملہ ہوا تو کیا آپ ہمیں بتائیں گے کہ وہاں پر کون کون موجود تھا تو میں نے بعد میں ان سے یہ سوال کیا تھا کہ کیا وہاں پر انڈین آرمی چیف موجود تھے تو انہوں نے جواب میں کہا کہ یہ جی یہ کسی انڈین جرنلسٹ سے پوچھیں اور انہوں نے تردید نہیں کی کہ وہاں پر انڈین آرمی چیف موجود تھے نہیں موجود تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا ردعمل جو ہے وہ بہت سخت تھا۔

پاکستان نے ایک ایسی جگہ پر بھی حملہ کیا جہاں پر انڈین آرمی چیف خود موجود تھے لیکن جان بوجھ کر براہ راست ان کوٹارگٹ نہیں کیا گیا ۔دائیں بائیں میزائل گرائے گئے تاکہ ان کو میسج مل جائے کہ اگر آپ نے پاکستان کے کسی شہر کو ٹارگٹ کیا تو پھر ہم براہ راست آپ کو ٹارگٹ کر سکتے ہیں تو یہ جو ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس تھی تو اس میں نہ صرف بھارت کو ایک سخت پیغام دیا گیا ہے کہ کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی اور اگر آپ نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگانے کا سلسلہ بند نہ کیا اور جو لائن آف کنٹرول پر آپ کر رہے ہیں اگر وہ آپ نے بند نہ کیں تو پاکستان دوبارہ بھی آپ کے جو حملے ہیں ان کا انتہائی سخت جواب دے سکتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…