بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر میزائلوں سے حملہ کیا وہاں پر بھارتی آرمی چیف بھی موجود تھے لیکن ان کو براہ راست ٹارگٹ کرنے کے بجائےجنرل بپن راوت کے دائیں بائیں میزائل کیوں گرائے گئے؟سنسنی خیز انکشافات

datetime 30  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور نے ایک اہم پریس کانفرنس کی جس میں سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر بھی شریک تھے ۔ اس اہم پریس بریفنگ کے بعد نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بریفنگ کا بنیادی مقصد یہ نظر آرہا تھا ۔

جب فروری کے آخر میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی تھی اور پاکستان نے انڈیا کے جہاز بھی گرائے تھے تو ان دنوں میں پاکستانی فوج کا جو ردعمل تھا وہ کافی سخت تھااو ر انڈیا کا کافی نقصان ہوا تھا لیکن پاکستان نے کوشش کی تھی کہ صورتحال زیادہ کشیدہ نہ ہو تو جو انڈیا کا نقصان ہورہا تھا اور جو کارروائی پاکستانی فوج کررہی تھی اس کا اعلان نہیں کیا جارہا تھا۔تو اب جبکہ ہندوستان کا میڈیا اور حکومت ہے وہ اب بھی کشیدگی ختم کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہا تو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سوالات کے انداز میں کچھ معلومات دنیا کے ساتھ شیئر کی ہے بس صرف انہوں نے یہ بتایا ہے کہ جب آپ میزائل کی بات کررہے تھے میزائل فائر کرنے کی تیاری کررہے تھے توہم نے ایک دو نہیں چھ میزائل آپ پر فائر کئے تھے اور جو مقبوضہ جموں کشمیر میں ایک نوشہرہ کا علاقہ ہے وہاں پر جو بریگیڈ ہیڈ کوارٹر ہے انہوں نے یہ کھلے الفاظ میں کہا کہ وہاں پر حملہ ہوا تو کیا آپ ہمیں بتائیں گے کہ وہاں پر کون کون موجود تھا تو میں نے بعد میں ان سے یہ سوال کیا تھا کہ کیا وہاں پر انڈین آرمی چیف موجود تھے تو انہوں نے جواب میں کہا کہ یہ جی یہ کسی انڈین جرنلسٹ سے پوچھیں اور انہوں نے تردید نہیں کی کہ وہاں پر انڈین آرمی چیف موجود تھے نہیں موجود تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا ردعمل جو ہے وہ بہت سخت تھا۔

پاکستان نے ایک ایسی جگہ پر بھی حملہ کیا جہاں پر انڈین آرمی چیف خود موجود تھے لیکن جان بوجھ کر براہ راست ان کوٹارگٹ نہیں کیا گیا ۔دائیں بائیں میزائل گرائے گئے تاکہ ان کو میسج مل جائے کہ اگر آپ نے پاکستان کے کسی شہر کو ٹارگٹ کیا تو پھر ہم براہ راست آپ کو ٹارگٹ کر سکتے ہیں تو یہ جو ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس تھی تو اس میں نہ صرف بھارت کو ایک سخت پیغام دیا گیا ہے کہ کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی اور اگر آپ نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگانے کا سلسلہ بند نہ کیا اور جو لائن آف کنٹرول پر آپ کر رہے ہیں اگر وہ آپ نے بند نہ کیں تو پاکستان دوبارہ بھی آپ کے جو حملے ہیں ان کا انتہائی سخت جواب دے سکتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…