جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

سیہون،4 روز کے دوران ہیٹ اسٹروک سے جاں بحق افرا دکی تعداد پندرہ ہوگئی

datetime 26  اپریل‬‮  2019 |

سیہون(این این آئی)سیہون کے مختلف حصوں میں ہیٹ اسٹروک کے باعث حضرت لعل شہباز قلندر کے عقیدت مندوں کی اموات کی تعداد 15 تک پہنچ گئی۔سیہون میں ایدھی سینٹر کے انچارج سرور شیخ کمے مطابق 4 روز میں ہیٹ اسٹروک سے لال شہباز قلندر کے عقیدت مندوں کی اموات 15 تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے افراد میں لاہور کے رہائشی 26 سالہ جاوید ولد شاہ محمد، ملتان کے رہائشی

60 سالہ محمد ظفر ولد وحید بخش شامل ہیں جو سالانہ عرس کے دوسرے روز ہیٹ اسٹروک کے باعث موت کا شکار ہوئے،اس کے علاوہ دیگر جاں بحق افراد میں اٹک کے رہائشی 49 سالہ عبدالرزاق، دیپارجا کے رہائشی 50 سالہ غلام مصطفی ولد ملوک، گجرات کے رہائشی 60 سالہ ضمیر شاہ، ڈیرہ اسمٰعیل خان کے رہائشی 50 سالہ سید قمر علی شاہ ولد سید مرتضیٰ شاہ، خیرپور ناتھن شاہ کے رہائشی 42 سالہ حاجی خان، خیرپور کی رہائشی 80 سالہ نواب خاتون، سرگودھا کے رہائشی 54 سالہ کرم شاہ ولد بہادر شاہ شامل ہیں، کرم شاہ عرس کے پہلے روز جاں بحق ہوا تھا۔انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد کا رہائشی 45 سالہ ساجد علی ولد مشتاق علی، شجاع آباد ملتان کا رہائشی 48 سالہ سخاوت علی ولد جلیل خان عرس کی تقریبات کے موقع پر انتقال کرگئے۔ایدھی سینٹر کے انچارج کا کہنا تھا کہ رتوڈیرو کے رہائشی 45 سالہ محمد علی، دادو شہر کی رہائشی 45 سالہ میرزادی خاتون، خانیوال کے رہائشی 32 سالہ محمد عقیل، پھلجی اسٹیشن کے رہائشی 40 سالہ محمد صدیق ولد لیاقت علی پنھور عرس کی تقریب کے آغاز سے 2 روز قبل جاں بحق ہوئے۔دوسری جانب جامشورو کے ڈپٹی کمشنر اور چیئرمین میلہ کمیٹی فرید الدین مصطفی کے مطابق سیہون شہر میں گزشتہ 4 دنوں میں 7 افراد کی موت ہوئی۔انہوں نے ہیٹ اسٹروک سے کسی کی اموات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اموات شام یا رات میں ہوئیں جب کوئی ہیٹ اسٹروک کا امکان نہیں تھا۔علاوہ ازیں ڈاکٹر معین صدیقی نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ گزشتہ دو دنوں میں سیہون میں ہیٹ اسٹروک سے کوئی شخص جاں بحق نہیں ہوا تاہم انہوں نے کہا کہ سیہون شہر کے مختلف حصوں سے 7 افراد مردہ حالت میں ہسپتال لائے گئے، جب ان افراد کا معائنہ کیا تو موت کی وجہ دل کا دورہ، سینے کی تکلیف اور جگر کی خرابی تھی۔انہوں نے کہا کہ ان افراد میں سے کچھ زائد عمر کے تھے اور وہ اپنی بیماریوں کی ادویات نہیں لے رہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…