منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سری لنکا میں حملوں کے بعد پاکستانی باشندے خوفزدہ مقامی افراد پولیس کو فون کر کے کیا رپورٹس لکھوانے لگے؟

datetime 25  اپریل‬‮  2019 |

کولمبو( آن لائن )مسیحی تہوار ایسٹر کے موقع پر کیے جانے والے متعدد دہشت گردانہ حملوں میں مسیحی افراد کی ہلاکتوں کا سوگ ابھی تھما نہیں تھا کہ سری لنکا کے سینکڑوں مسلمان شہریوں کو مذہبی کشیدگی کی وجہ سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ متعدد پاکستانی مسلمان باشندے مقامی لوگوں کی جانب سے جوابی کارروائی کے خوف کی وجہ سے نیگومبو نامی شہر چھوڑ چکے ہیں۔

پولیس اور کمیونٹی رہنمائوں نے بسوں کے ذریعے ان افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کر دیا ہے۔ایک پاکستانی مسلم شخص عدنان علی کا کہنا تھا کہ بم دھماکوں کے بعد مقامی لوگوں کی جانب سے ان کے گھروں پر حملے کیے گئے۔ علی کے بقول، ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کہاں جائیں گے۔سری لنکا میں اکیس اپریل کو گرجا گھروں اور ہوٹل میں کیے گئے چھ دہشت گردانہ حملوں میں کم از کم 359 افراد کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ چرچ کے رہنما سمجھتے ہیں کہ کولمبو کے نواحی علاقے نیگومبو میں واقع سینٹ سباستیان گرجا گھر میں ہونے والے دو دھماکوں میں ہلاک شدگان کی تعداد دو سو تک پہنچ سکتی ہے۔علاوہ ازیں جہادی تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش سری لنکا میں ایسٹر کے تہوار پر کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے۔ نیگومبو سے منتقل ہونے والے مسلمان باشندوں کا تعلق احمدیہ برادری سے ہے۔ واضح رہے پاکستان کے آئین میں احمدیہ افراد کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے بعد سے احمدی کمیونٹی اپنے مذہبی عقیدے کی بنا پر ایک عرصے سے امتیازی سلوک کا شکار رہی ہے۔ سری لنکا میں ان حالیہ حملوں کے بعد احمدیہ افراد ایک مرتبہ پھر پناہ کی تلاش میں ہیں۔دریں اثنا سری لنکا کی پولیس نے بتایا ہے کہ نیگومبو کے مقامی افراد کی جانب سے بے شمار فون کالز موصول ہوئی ہیں جس میں پاکستانی شہریوں پر شبے کا اظہار کیا گیا ہے۔ پولیس اہلکار ہیراتھ سیسیلا کمارا کے مطابق شکایات کے پیش نظر انہیں مشتبہ افراد کے گھروں کی تلاشی لینا ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…