پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

ملک بھر کے کاروباری افراد کے لیے بڑی خوشخبری، عدالت نے ایف بی آر کے اہم اختیار کو غیر قانونی قرار دے دیا

datetime 24  اپریل‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے سیلز ٹیکس وصولی کیلئے ایف بی آر کا ازخود اختیار غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ایف بی آر کو کاروباری افراد کو سیلز ٹیکس رولز 2006 کے تحت رجسٹر کئے بغیر سیلز ٹیکس کی وصولی سے روک دیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے ملک بھر کے کاروباری افراد میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس مزمل اختر شبیر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ایس کے سٹیل ملز سمیت دیگر کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا،

درخواست گزاروں کی طرف سے اجمل خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف بی آر سیلز ٹیکس وصولی کیلئے ازخود اختیار استعمال کر رہا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر کے کاروباری افراد پریشانی کا شکار ہیں، کاروباری افراد نے ایف بی آر سمیت مختلف فورمز پر محکمے کے ازخود اختیار کو چیلنج کیا لیکن شنوائی نہیں ہوئی، اس لئے یہ معاملہ دو رکنی بینچ کے روبرو آیا ہے، اجمل خان ایڈووکیٹ نے نشاندہی کہ کہ ایف بی آر کی موجودہ پریکٹس یہ ہے کہ یہ کسی بھی کاروباری شخص یا ادارے کو رجسٹرڈ کئے بغیر ہی اس سے سیلز ٹیکس کی وصولی کر لیتا ہے جو سیلز ٹیکس رولز 2006 کی دفعہ 6 کی ذیلی دفعہ چار اور آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت فیئر ٹرائل کے اصول کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے کہا کہ اس وقت ایف بی آر رجسٹرڈ پرسن اور غیر رجسٹرڈ پرسن دونوں سے سیلز ٹیکس وصول کر رہا ہے، سیلز ٹیکس قانون کے مطابق رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ پرسنز الگ الگ ہیں، قانون کے مطابق غیررجسٹرد پرسن اور ایسے کاروباری افراد یا ادارے جن کی رجسٹریشن ہو سکتی ہے کو رجسٹرڈ کرنے کے بعد ہی سیلز ٹیکس وصولی ہو سکتی ہے لیکن ایف بی آر گزشتہ 9 برسوں سے کاروباری افراد کو قانون کی غلط تشریح اور ازخود اختیار کے تحت ہراساں کر رہا ہے، ایف بی آر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ

ایف بی آر کو کسی بھی کاروباری پرسن سے سیلز ٹیکس وصولی کا اختیار ہے، قانون ایف بی آر کو ایسا کرنے سے منع نہیں کرتا، ایف بی آر کے وکیل کے دلائل کا جواب دیتے ہوئے اجمل خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ سیلز ٹیکس میں دفعہ 19 تھی جو ایف بی آر کو کسی بھی کاروباری پرسن کی زبردستی رجسٹریشن کا اختیار دیتی تھی، یہ دفعہ ختم کر کے سیلز ٹیکس رولز کی دفعہ 6 کی ذیلی دفعہ 4 میں ڈال دی گئی جس میں لکھا ہے کہ ایف بی آر پہلے کسی بھی کاروباری پرسن کو رجسٹرڈ کرے گا،

اس کے بعد اس سے سیلز ٹیکس کی وصولی کرے گا، دو رکنی بنچ نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایف بی آر کا کسی بھی کاروباری پرسن سے سیلز ٹیکس وصولی کا اختیار غیرقانونی قرار دیدیا. عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ایف بی آر غیر رجسٹرڈ پرسن سے سیلز ٹیکس کی وصولی نہیں کر سکتا، سیلز ٹیکس وصولی کیلئے ایف بی آر پہلے غیر رجسٹرڈ پرسنز کو اپنے پاس رجسٹرڈ کرے، کاروباری افراد کی سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت رجسٹریشن سے قبل ٹیکس وصولی غیرقانونی ہے، عدالتی فیصلے کے مطابق سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 3 کے تحت ٹیکس چارج کرنے کا اطلاق تب ہوگا جب ایف بی آر کسی کاروباری پرسن کو رجسٹرڈ کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…