منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

شہبازشریف کی ملکیتی رمضان شوگر ملز نے اربوں دبا لئے ، ادائیگی کی بجائے کس کام پر مجبور کیا جانے لگا؟کسانوں نے مکروہ چہرہ بے نقاب کردیا

datetime 22  اپریل‬‮  2019 |

چنیوٹ( آن لائن ) پنجاب حکومت شریف خاندان کی ملکیتی شوگر مل رمضان شوگر مل سے کسانوں کو ’’ گنا ‘‘ کی ادائیگی کرانے میں ناکام ہوگئی ہے جبکہ ہزاروں کسان ’’ گنا ‘‘ کی ادائیگی کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔ رمضان شوگر مل شہباز شریف کی ملکیتی مل ہے جس نے کسانوں کے اربوں روپے دبا لئے ہیں ۔

ڈی سی آفس چنیوٹ کے باہر بھی سینکڑوں کسانوں نے احتجاج کیا اور حکومت پنجاب کے خلاف شدید نعرے بازی کی ہے کسانوں نے گنا کی ادائیگی کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے بھی اپیل کررکھی ہے لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا ہے ۔ رمضان شوگر مل انتظامیہ نے کسانوں کورقوم دینے کی بجائے زبردستی چینی فروخت کررہے ہیں جبکہ یہ چینی مارکیٹ کے ریٹس سے مہنگی دی جارہی ہے ۔شریف خاندان نے کسانوں پر واضح کردیا ہے کہ ان کو گنا کی ادائیگی نہیں کی جائے گی اور کسانوں کو مہنگے داموں چینی وصول کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔شریف خاندان کسانوں کو مہنگے داموں چینی فروخت کرکے اربوں روپے لوٹنا چاہتے ہیں۔ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسانوں کو گنا کی ادائیگی کرائے لیکن پنجاب کے کین کمشنر واجد علی شاہ بھی شریفوں کا آدمی ہے جو قانون کو حرکت میں لانے سے گریزاں ہے جبکہ وزیر زراعت نعمان لنگڑیاں بھی کمزور وزیر ہے جس کے پاس کسانوں کو انصاف دلوانے کیلئے کوئی طاقت نہیں ہے ۔عمران خان واحد امید کی کرن ہے جو کسانوں کے دکھوں کامداوا کرسکیں گے اور گنا کی ادائیگی کیلئے کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ڈی سی چنیوٹ پہلے ہی خوفزدہ ہیں وہ بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرپارہے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…