بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ممبئی میں مسلم لڑکی مذہبی بنیاد پر فلیٹ سے محروم

datetime 30  مئی‬‮  2015 |

ممبئی میں ایم بی اے کے گریجویٹ ایک مسلم نوجوان کو ہیرے برآمد کرنے والے ایک کمپنی نے محض اس کے مذہب کی بنیاد ملازمت دینے سے انکارکے صرف چند دن بعد پیش آئے مذہبی امتیاز کے ایک دوسرے واقعہ میں ممبئی کے ایک بلڈر نے ایک نوجوان مسلم خاتون محض اس کے مذہب کی بنیاد پر فلیٹ کرایہ پر دینے سے انکار کردیا۔ مہاراشٹرا کے وزیر اقلیتی امور یکناتھ کھڈسے نے اس واقعہ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے آج وعدہ کیا کہ خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کھڈسے نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اس واقعہ کی تفصیلات طلب کرچکے ہیں اور خاطیوں سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ انسانی اور شہری حقوق کے جہد کاروں نے بھی اس مسئلہ کو قومی اقلیتی کمیشن سے رجوع کیا۔ 25 سالہ لڑکی مصباح قادری ،

download

ایک سال قبل گجرات سے شہر ممبئی منتقل ہونے کے بعد مغربی مضافاتی علاقہ کنڈی ویلی میں ایک اپارٹمنٹ میں قیام پذیر ہے۔ وہ ایک تعلقات عامہ ادارہ میں کام کرتی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے علاقہ واڈیلا میں ایک فلیٹ خریدنے کی کوشش کی لیکن وہ اپارٹمنٹ بلڈر کے امتیازی رویہ سے سکتہ میں آگئی ۔ مصباح قادری نے بتایا کہ بسیار تلاشی کے بعد میں نے واڈیلا میں ایک مکان پایا اور ایک بروکر کے ذریعہ 24 ہزار روپئے بھی ادا کردیئے گئے اور مکان کا ساز و سامان منتقل کرنے سے عین قبل بروکر نے ٹیلیفون پر خبردار کیا کہ فلیٹ میں منتقل ہونے کی کوشش نہ کریں کیونکہ بلڈر کی یہ پالیسی ہے کہ کسی مسلمان کو کرایہ دار نہ بنایا جائے ۔ اگرچیکہ میںنے اس کی وجوہات کا پتہ چلانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکی۔ قادری نے یہ ادعا کیا کہ بروکر نے اعتراض نہیں سرٹیفکٹ (NOC) پر دستخط کرنے کیلئے کہا جس میں یہ اعلان کیا جائے کہ ان کے مذہب کی وجہ سے اگر پڑوسیوں کی جانب سے ہراساں کیا گیا اور بلڈر ، اونر اور بروکر کو قانوناً ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ میرے قدیم فلیٹ کی میعاد ختم ہوگئی تھی اور شرط منظور نہ ہونے کے باوجود میں جدید فلیٹ منتقل ہوئی۔ ایک ہفتہ بعد بروکر نے دوبارہ ٹیلیفون کر کے فلیٹ کا تخلیہ کردینے کی ہدایت دی ۔ میرے پاس کوئی دوسرا چارہ کار نہیں تھا لہذا میں نے فلیٹ کو چھوڑ دیا اور اب باندرہ ہمیں واقع ایک خانگی گیسٹ ہاؤز میں مقیم ہوں۔مصباح قادرینے مزید بتایا کہ جب انہوں نے بلڈر کے نمائندوں سے ملاقات کی تو معلوم ہوا کہ انکی یہ پالیسی ہے کہ کسی بھی مسلمان کو مکان کرایہ پر نہ دیا جائے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…