پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

جعلی نوٹوں کی بھرمار 5ہزار 1ہزار اور 5سو کے جعلی نوٹ کثرت سے گردش کرنے لگے ،وسیع پیمانے پر جعلی کرنسی کے دھندے کا انکشاف،عوام کو انتباہ کردیاگیا

datetime 15  اپریل‬‮  2019 |

سانگلہ ہل ( آن لائن ) سانگلہ ہل شہر بھر میں جعلی نوٹوں کی بھرمار 5ہزار 1ہزار اور 5سو کے جعلی نوٹ کثرت سے گردش کرنے لگے شہریو ں او ر دوکانداروں کر درمیان لڑائی جھگڑے معمول بن گئے محلہ احمد آباد میں جنرل سٹور اور کریانہ مرچنٹ مالکان

کی طرف سے منی چینج کے کاروبار کی آڑمیں وسیع پیمانے پر جعلی کرنسی کے دھندے کا انکشاف درجنوں شہری جعلی کرنسی چلانے والوں کا شکار ہوگئے اس سلسلہ میں محلہ احمد آبا دکے مقامی شاہد کریانہ سٹور کے مالک نے محلہ دار کونسلر کو آنے والے 30ہزار روپے ایزی پیسہ دیتے وقت 5۔5 ہزار روپے جعلی نوٹ تھمادیئے جب وہ نوٹ لے کر دوسری دوکان پراسکا اْدھار اتارنے کیلئے گیا تو دوکاندار نے حیران ہو کر کونسلر سے کہا کہ یہ آپ کے 5ہزار کے نوٹ جعلی ہیں جس پر وہ دوبارہ واپس شاہد کریانہ سٹور پر پہنچا تو دوکاندار نے نوٹ واپس لینے سے انکار کر دیا جس پر کونسلر اور دوکاندار کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی محلہ داروں کی مداخلت پر دوکاندار کو مجبوراََ جعلی نوٹ واپس لینے پڑے جبکہ کہ کمیٹی بازار۔مین بازار۔سبزی منڈی میں بھی ہزار اور 5ہزار والے جعلی نوٹ عام طورپر گردش کرنے لگے اس پر دوکانداروں اور شہریوں کے درمیان آئے روز جعلی کرنسی کے لین دین پر جھگڑے معمول بن گئے ہیں یہ بھی واضح رہے کہ منی چینج کی آڑ میں جعلی کرنسی کا کاروبار کرنے والے راتو ں رات لاکھ پتی بن گئے ان سٹوروں پر ہی جعلی کرنسی کے کاروبار کاانکشاف ہوا ہے شہریوں نے حکام بالا سے ایسے سٹور مالکان کے اثاثے چیک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…