پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

موجودہ حکومت کٹھ پتلی ہے ہم اسے نہیں مانتے،مہنگائی بے قابو ،ملکی معیشت تباہ ہوگئی،،مولانا فضل الرحمان نے بڑے اقدام کا اعلان کردیا

datetime 15  اپریل‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کٹھ پتلی ہے ہم اسے نہیں مانتے،حکومت گرانے کیلئے ملک بھر میں تحریک چلائیں گے، نیب سیاسی انتقام کیلئے بنایا گیا ایک ادارہ ہے، ہم احتساب سے نہیں ڈرتے، نئی ٹیکنالوجی کا استعمال نوجوان بہتر انداز میں کر سکتے ہیں، ستر سال گزرنے کے باوجود بھی علماء کی سیاست یا ٹیکنالوجی کے استعمال پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے۔

جے یوآئی کے زیراہتمام پشاورمیں سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کو گرانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس کٹھ پتلی حکومت کو ماننے کے لئے تیار نہیں تحریک چلا کر اس کا خاتمہ کرینگے،جن ممالک نے بھیک دیا آج وہ کشکول بھرنے کو تیار نہیں،مہنگائی بے قابو ہوگئی ہے اور ملکی معیشت تباہ ہوکر رہ گئی ہے۔موجودہ حکومت کا انداز ملکی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔حکومت اپنے آپ گرگئی تو ملکی استحکام کو خطرہ ہوسکتا ہے اسلئے ہم گرائیں گے۔انہوں نے گزشتہ انتخابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں مکمل دھاندلی ہوئی اور الیکشن کمیشن ناکام ہوا ،علما کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کیلئے پروپیگنڈے کئے جا رہے ہیں مولانافضل الرحمان کاکہنا تھا کہ نئی ٹیکنالوجی کا استعمال نوجوان بہتر انداز میں کر سکتے ہیں، ستر سال گزرنے کے باوجود بھی علماء کی سیاست یا ٹیکنالوجی کے استعمال پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے، علماء کیخلاف ایسے تاثرات میں ملکی اسٹبلشمنٹ کا بہت بڑا ہاتھ ہے، انگریز دور میں علماء کے خلاف تعصب پھیلایا گیا آج بھی اس کے اثرات موجود ہے، علماء کے خلاف تعصب ریاستی اسٹبلشمنٹ کا کام ہے، ریاستی ادارے علماء کے خلاف تعصب پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جمعیت علماء اسلام برصغیر کے تاریخ کی سب سے قدیم جماعت ہے، انکاکہنا تھا کہ بر صغیر کی سب سے قدیم سیاست جے یو آئی کی ہے ۔ پاکستان کے بیورو کریسی اور اسٹبلشمنٹ علماء و مدارس کے کرادار کو مانے کو تیار نہیں،

طبقاتی نظام تعلیم نوجوانوں کی فکر سوچ کو منتشر کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ نیب سیاسی انتقام کے لئے بنایا گیا ایک ادارہ ہے،عالمی طاقتوں کی نظریں پاکستان پر ہے حکومت پر نہیں، ملکی معیشت تباہ ہو رہی ہے مہنگائی غروج پر پہنچ گئی ہے،روزانہ ہم پندرہ ارب قرضے لے رہے ہیں، موجودہ حکمران کٹ پتلی انہیں لایا گیا ہے، اس جماعت کو ناجائز طریقے سے ناجائز حکومت دینے کا جرم ملکی اسٹبلشمنٹ نے کیا ہے،ہم نے ملک کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنا ہے، انتخابات میں بھرپور دھاندلی ہوئی ہے الیکشن کمیشن مکمل ناکام ہو چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…