جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

برآمدات کے فروغ کیلئے ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کی بجائے زمینی حقائق کو مد نظر رکھا جائے،متعلقہ شعبے کے افسران کی بطور کمرشل اتاشی تعیناتی نا گزیر

datetime 13  اپریل‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی)برآمدات کے فروغ کیلئے سفارتخانوں میں صرف متعلقہ شعبے سے تعلق رکھنے والے افسران کی بطور کمرشل اتاشی تعیناتی اور ان کیلئے اہداف مقرر کئے جائیں ،بیرون ممالک بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز میں پاکستانی مصنوعات کیلئے ’’پویلین ‘‘کے حصول کیلئے کام کیا جائے ،کسی بھی ملک میں منعقدہ ہر طرح کی نمائشوں میں شرکت کو یقینی بنایا جائے اور شرکت کیلئے جانے والوں سے وطن واپسی پر

مفصل رپورٹ لی جانی چاہیے ۔ ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر آف کامر س اینڈ انڈسٹری کے سابق صدرپرویز حنیف نے ’’پاکستانی معیشت اورہماری برآمدات ‘‘کے حوالے سے منعقدہ ایک مذاکراے میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آ ج بنگلہ دیش جیسے ملک نے برآمدات میں ہمیں پیچھا چھوڑ دیا ہے اور پوری دنیا میں اس کی مصنوعات کی مانگ ہے ۔ہمیں اپنی برآمدات کے فروغ کیلئے کامیاب ممالک کو سٹڈی کرنا چاہیے اور ان کے تجربات سے استفادہ کرنے میں کوئی برائی نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کے فروغ میں بیرون ممالک سفارتخانوں کا کلیدی کردار ہے لیکن بد قسمتی سے انہیں آج تک کسی طرح کے اہداف نہیں دئیے گئے ۔ کمرشل اتاشیوں کی تعیناتی کیلئے ایک معیار مقرر کیا جائے اور متعلقہ شعبے کے علاوہ کسی دوسرے شعبے سے تعلق رکھنے والے افسرکو بطور کمرشل اتاشی ذمہ داریاں نہ سونپی جائیں ۔کمرشل اتاشی تعیناتی حاصل کرنے سے قبل اس ملک کی زبان پر مکمل عبور ،اس کے ماحول اور بڑی مارکیٹیوں سے آگاہی کو لازمی قرار دیا جائے ۔اگر ہم نے برآمدات کو فروغ دینا ہے تو ڈھنگ ٹپاؤ پالیسیوں کی بجائے زمینی حقائق کے مطابق پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ جب متعلقہ شعبے سے افسر کی تعیناتی اور اسے اہداف دئیے جائیں گے تو یقینی طو رپر اس کے نتائج بھی سامنے آئیں گے۔ پرویز حنیف نے کہا کہ ہمیں بیرون ممالک بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز پر پاکستانی مصنوعات کیلئے ’’پویلین ‘‘کے حصول کیلئے کام کرنا چاہیے اور اس کیلئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں ۔کمرشل اتاشی مختلف ممالک کی جانب سے اپنی ضرورت کیلئے منگوائی جانے والی مصنوعات کا ڈیٹا اکٹھا کریں اوراس حوالے سے باضابطہ رپورٹ مرتب کر کے متعلقہ وزارت کو بھجوائی جائیں اور نتائج حاصل کرنے کے لئے اس پر کام کیا جائے ۔بیرون ممالک نمائشوں میں شرکت کو سیر و تفریح کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ شرکت کرنے والوں کو بھی اہداف دئیے جائیں اور انہیں وطن واپسی پرمفصل رپورٹ جمع کرانے کا پابند بنایا جائے ۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…