منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

’’لڑکیاں بالغ اور زبردستی مذہب تبدیل نہیں کروایا گیا‘‘ نومسلم بہنوں کو شوہروں کیساتھ رہنے کی اجازت مل گئی

datetime 11  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن )ہائی کورٹ نے تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں گھوٹکی کی نومسلم بہنوں کو اپنے شوہروں کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے گھوٹکی کی ہندو مذہب چھوڑنے والی 2 نومسلم بہنوں کی تحفظ فراہمی کی درخواست پر سماعت کی تو تحقیقاتی کمیشن کی عبوری رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی۔

سیکرٹری داخلہ نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ عدالتی ہدایت پر جبری مذہب تبدیلی کے الزام کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن بنایا گیا، 9 اپریل کو وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور قومی کمیشن حقوق خواتین کی چیئر پرسن خاورممتاز نے لڑکیوں سے ملاقات کی، ان کے شوہروں سے بھی ہماری ملاقات ہوئی، یہ زبردستی مذہب تبدیلی کا کیس نہیں لگا، بلکہ یہ اس علاقے کے مقامی کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے بھی رپورٹ پیش کی جس کے لیے کمشنر اور ڈی آئی جی سکھر نے کمیشن کی معاونت کی، ہم نے رحیم یارخان کے ڈی سی او کو بھی بلا کر رپورٹ مرتب کی، 9 اپریل کو دونوں لڑکیوں کی میڈیکل رپورٹس بھی آگئی ہیں جن کے مطابق دونوں لڑکیاں بالغ ہیں، آسیہ کی عمر 18 سال اور نادیہ 19 سال کی ہے، یہ زبردستی مذہب تبدیلی نہیں ہے بلکہ وہاں کے حالات کے مطابق ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اقلیتوں کو شبہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے حقوقِ محفوظ نہیں، کمیشن کے ارکان بڑی عزت کے حامل لوگ ہیں اور ہمیں ان پریقین ہے، واضح ہوگیا کہ لڑکیاں بالغ ہیں اور زبردستی مذہب تبدیل نہیں کرایا گیا، ڈاکٹر رمیش کمار حکومتی پارٹی سے ہیں، وہ سیاسی فورمز پر معاملہ اٹھائیں۔چیف جسٹس نے آئی اے رحمان سے استفسار کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے۔

آئی اے رحمان نے بتایا کہ جن مراکز پر لڑکیاں مسلمان ہوتی ہیں ان کو ریگولرائز کیاجائے، یہاں زبردستی مذہب تبدیلی کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ پراعتماد ہے ان کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتے، پارلیمنٹ خود ایسے معاملات پربحث کرائے۔کمیشن کی رکن خاور ممتاز نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ یہ حساس معاملہ تھا ہم نے اس کی چھان بین کی، لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کے لئے اسلام قبول کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے اقلیتوں کے حقوق کو سامنے رکھ کر یہ کیس آگے چلایا، لڑکیوں کواجازت دے رہے ہیں کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ رہیں۔ ہائی کورٹ نے سماعت کے بعد لڑکیوں کو اپنے شوہروں کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…