جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مضبوط معیشت پاکستان کی بقاء کیلئے نا گزیر ہے جس کیلئے روایتی اقدامات سے دو قدم آگے بڑھ کر کام کرنا ہوگا ، خواجہ حبیب الرحمان

datetime 7  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)ایران پاک فیڈریشن آف کلچر اینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ سیاستدانون میں بڑھتی ہوئی خلیج ملک کے حق میں بہتر نہیں جس کا ادراک کیا جانا وقت کی ضرورت ہے ،مضبوط معیشت پاکستان کی بقاء کیلئے نا گزیر ہے جس کیلئے روایتی اقدامات سے

دو قدم آگے بڑھ کر کام کرنا ہوگا،حکومت آئند ہ مالی سال کے بجٹ کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز کے حصول کیلئے کانفرنسز کا انعقاد کرے ۔ ان خیالات کا اظہارا نہوں نے وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے تاجروں کے نمائندہ وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔خواجہ حبیب الرحمان نے کہا کہ اگر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو تمام سیاستدانوں کو اپنے ذاتی مفادات سے بالا ترہو کر سوچنا ہوگا ۔ قومی معاملات پر اتفاق رائے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک موثر فورم تشکیل دیا جائے اور اس کے فیصلوں کو موثر بنانے کیلئے قانون سازی کی جائے ۔ آپس کے اختلافات نے معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے جس سے ہماری بقاء خطرے سے دوچار ہے ۔انہوں نے کہا کہ معیشت کے معاملے میں روایتی سیاست کا تڑکا لگانے کی بجائے قوم کو اصل حقائق سے آگاہ کرنے کیساتھ حالات کو سدھارنے کیلئے عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔بے یقینی کی کیفیت کی وجہ سے کاروباری حالات میں شدید مندی کا رجحان ہے جس کی وجہ سے ہر طبقہ مشکلات سے دوچار ہے ۔ موجودہ حالات میں عوام میں اس قدر مایوسی پھیلا دی گئی ہے کہ طرح طرح کی افواہیں گردش کر رہی ہیں جس کے ہر شعبے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور یہ افواہیں صرف پاکستان کے اندر نہیں بلکہ بیرو ن ممالک بھی سفر کرتی ہیں جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری محتاط ہو جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…