جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت غریب کو ریلیف دینے کیلئے رمضان بازاروں کی بجائے براہ راست ملز کو سبسڈی دے : کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن

datetime 31  مارچ‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی ) مرکزی کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سبسڈی کی رقم کرپشن کی نظر ہونے سے بچانے کیلئے امسال رمضان بازاروں کی بجائے براہ راست ملز کو سبسڈی کی رقم فراہم کرے جس سے عوام کو ہر سطح پر بلا تفریق سبسڈائز اشیائے خوردونوش بآسانی میسرآسکیں گی ، رمضان بازاروں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے صرف اطراف کی آبادیاں مستفید ہوتی ہیں ۔

اور یہ شرح 25سے 29فیصد ہے جو نا انصافی ہے ۔ان خیالات کا اظہار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری طاہر ثقلین بٹ نے رمضان المبارک کے حوالے سے منعقدہ عہدیداروں کے اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ٹاؤنز میں سبسڈی دے کر رمضان بازار لگانے کا تجربہ کامیاب نہیں رہا ،حکومت کو سبسڈی کے علاوہ دیگر انتظامات پر الگ سے کروڑوں روپے کے خرچ کرنا پڑتے ہیں جبکہ سبسڈی کی رقم کا ایک بڑا حصہ خرد برد ہو جاتا ہے ۔ حکومت عوام کو بلا تفریق سبسڈائزڈ اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے آٹا، چینی، گھی سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کے مل مالکان کو سبسڈی فراہم کرے جس سے حقیقی معنوں میں غریب کو ریلیف ملے گا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت رمضان بازاروں کے لئے خطیر رقم دینے کا ارادہ رکھتی ہے اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ منصوبے پر از سر نو غور کیا جائے ۔عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ حکومت رمضان المبارک میں زیادہ استعمال ہونے والے اشیائے خوردونوش کی طلب کے مطابق رسد کو یقینی بنانے کیلئے پیشگی اقدامات کرے تاکہ کسی کو مصنوعی قلت پیدا کر کے گراں فروشی کا موقع نہ ملے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…