اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت نے تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کیلیے نیا ہتھکنڈا آزمانے کا فیصلہ

datetime 30  مارچ‬‮  2019 |

سرینگر( آن لائن )بھارت نے تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کیلیے نیا ہتھکنڈا آزمانے کا فیصلہ کیاہے ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کیلئے ٹیررازم مانیٹرنگ گروپ (ٹی ایم جی)یعنی مخصوص دہشتگردی نگرانی گروپتشکیل دے دیا ہیٹی ایم جی کا ہفتہ وار اجلاس ہو گااور یہ گروپ ایکشن رپورٹ پیش کریگا۔اس گروپ میں پولیس، انٹیلی جینس ایجنسیوں کے حکام شامل ہونگے۔ بھارتی حکومت کی طرف سے حکم نامہ جاری کر دیا گیاہے۔

بھارت کی جانب سے اس گروپ کی آڑ میں کشمیریوں کی جائیداد، املاک اور گھروں کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا گیاہے ۔دہشتگردوں کی مالی معاونت کے بہانے بے گناہوں کی گرفتاریاں کی جائیں گی ۔ کشمیری تنظیموں کیخلاف کریک ڈان کا نیا سلسلہ شروع ہو گا۔تحریک آزادی کیلئے چندہ اکٹھا کرنے والیافراد یا تنظیمیں خصوصی طور پر نشانہ ہوں گے۔بھارت تحریک آزادی کشمیر میں اساتذہ کی شمولیت پر بھی خائف ہے ۔ نگرانی گروپ اساتذہ، سرکاری ملازمین کیخلاف بھی ایکشن لے گاغاصب بھارت تحریک آزادی کشمیر کی معاونت کرنے والے ہر شخص کو نشانہ بنائے گا۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہا ہوگئی جس وجہ سے کشمیری دانشور بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔یہ انکشاف امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے ۔ اخبار نے لکھا ہے کہ انتہائی تعلیم یافتہ اساتذہ اورطلبہ بھی بھارت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ لکھتا ہے کہ 2013میں مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد صرف16تھی۔ 2017کیمقابلے میں مزاحمتی تحریک میں نوجوانوں کی شرکت2018میں52 فیصد بڑھی۔اخبار نے بھارتی فوج کے اہلکارکے حوالے سے لکھا کہ 2018میں191 کشمیری نوجوانوں نے مزاحمتی تحریک میں شمولیت اختیارکی۔2008کے بعدسیمزاحمتی تحریک میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…