جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی اڑان ،ڈالر کی قیمت کہاں تک جا سکتی ہے؟بین الاقوامی ادارے موڈیز نے تشویشناک پیش گوئی کردی

datetime 30  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن ) پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی اڑان جاری ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز بھی مارکیٹ میں ڈالر کے مختلف ریٹس چل رہے ہیں۔ کراچی میں منی چینجرز 142روپے 50پیسے میں ڈالر خرید رہے ہیں اور 143روپے 50 پیسے میں فروخت کررہے ہیں۔

کراچی کے برعکس راولپنڈی میں منی چینجر کا کہنا ہے کہ وہ 142روپے 20پیسے میں خرید رہے ہیں اور 142روپے 90پیسے میں فروخت کررہے ہیں۔مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مزید گر سکتی ہے، امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ڈالر کی قیمت 144 روپے تک جا سکتی ہے۔موڈیز کی 2019 میں ڈالر کی قیمت 148 روپے ہونے کی پیشگوئی گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 141 اور اوپن مارکیٹ میں 141 روپے 70 پیسے رہی۔فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق جمعے کے روز انٹربینک میں ڈالر ساٹھ پیسے مہنگا ہوا اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 30 پیسے اوپر گئی۔پی ٹی آئی کی حکومت کے اقتدار میں آنے سے اب تک ڈالر کی قیمت میں 8 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ستمبر 2018 میں ڈالر 134 روپے پر ٹریڈ کررہا تھا اور چھ ماہ میں بڑھ کر 142 روپے پر پہنچ چکا ہے۔یاد رہے کہ دنیا بھر میں معیشتوں کی درجہ بندی کرنے والے ادارے موڈیز نے 2019 کے اختتام تک پاکستان میں ڈالر 148 روپے تک جانے کی پیش گوئی کی تھی۔ پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی اڑان جاری ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز بھی مارکیٹ میں ڈالر کے مختلف ریٹس چل رہے ہیں۔ کراچی میں منی چینجرز 142روپے 50پیسے میں ڈالر خرید رہے ہیں اور 143روپے 50 پیسے میں فروخت کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…