اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کرائسٹ چرچ سانحہ کے بعد نیوزی لینڈ میں مقیم تارکین وطن شدیدخوف وہراس کا شکارہوگئے

datetime 18  مارچ‬‮  2019 |

کرائسٹ چرچ (این این آئی)نیوزی لینڈ کے میڈیا نے کہاہے کہ کرائسٹ چرچ سانحہ کے بعد اب بھی تارکین وطن خوف وہراس کا شکار ہیں،مساجد میں نمازیوں کی تعدادانتہائی کم اورمارکیٹ میں آنے کے حوالے سے بھی تارکین وطن احتیاط سے کام لے رہے ہیں،

کیوی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نصیرالدین نے کہا کہ وہ بہت افسردہ ہیں۔ 37 سالہ نصیرالدین کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔ وہ پانچ سال پہلے بنگلہ دیش سے نیوزی لینڈ کے مشرقی ساحلی علاقے کے دلفریب شہر ساتھ آئی لینڈ میں منتقل ہوئے۔نصیرالدین باقاعدگی سے مسجد جاتے ہیں اور اگر جمعہ کے روز وہ کام پر نہ ہوتے تو وہ بھی حملے کے وقت مسجد میں موجود ہوتے۔ حملے کا سن کر انھوں نے بہت سے لوگوں کو فون کیا لیکن کسی نے ان کا فون نہیں اٹھایا۔ ان کے دو دوست اس حملے میں ہلاک ہوئے۔نیوزی لینڈ کی اسلامک ویمن کونسل کی انجم رحمان نے کہاکہ النور مسجد ہمیشہ سے ہی سب کو بہت عزیزتھی۔ جب یہ تعمیر ہوئی تو یہ دنیا کی سب سے جنوبی مسجد تھی۔متنوع مسلم برادری کے بارے میں انہوں نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ نیوزی لینڈ دنیا میں سب سے بہترین مثال ہے جہاں یہ کامیابی سے کیا گیا ہے۔ یہ غلطی سے نہیں ہوا۔ اس پر ہم سب نے اور ہمارے آبا اجداد نے کام کیا ہے۔53سالہ الینور مورگن کے لیے کرائسٹ چرچ کے دل ہیگلی پارک میں ایسا واقعہ معمول کے برعکس بہت ہولناک بات ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ جگہ ان کی پناہ گاہ ہونی چاہیے تھی، ان کا محفوظ مقام۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم انھیں محبت دکھانے کا کوئی طریقہ ڈھونڈ سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…