جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

شام میں ایک ہزار فوجی باقی رکھنے سے متعلق رپورٹ بے بنیاد ہے، امریکا

datetime 18  مارچ‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کی جانب سے اس اخباری رپورٹ کی سختی سے تردید کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا شام میں اپنے ایک ہزار کے قریب فوجی چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی اخبار وال کہا تھا کہ شمال مشرقی شام میں سیف زون سے متعلق کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ترکی اور امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز کے ساتھ بات چیت ناکام ہو جانے کے بعد

اب امریکا ملک میں کرد جنگجوؤں کے ساتھ کام جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اخبار نے امریکی عہدے داران کے حوالے سے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت شام میں ایک ہزار کے قریب امریکی فوجیوں کو باقی رکھا جا سکتا ہے۔امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل جوزف ڈینفور نے ایک بیان میں کہا کہ ایک بڑے امریکی اخبار کی جانب سے سامنے آنے والا یہ دعوی کہ امریکی فوج شام میں ایک ہزار فوجی باقی رکھنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے یہ دعوی درحقیقت درست نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رواں سال فروری میں اعلان کردہ200فوجیوں کو رکھنے کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور امریکی فوجیوں کو کم کرنے کے حوالے سے صدر کی ہدایت پر عمل درامد جاری رہے گا۔تاہم جنرل ڈینفور نے واضح کیا کہ امریکا ترکی کی جنرل اسٹاف کمیٹی کے ساتھ ایک تفصیلی عسکری منصوبہ بندی کا سلسلہ جاری رکھے گا تا کہ ترکی اور شام کی پوری سرحد پر انقرہ کے سکیورٹی خدشات سے نمٹا جا سکے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس دسمبر میں داعش تنظیم کے خلاف مکمل فتح کی نوید سناتے ہوئے شام کے شمال مشرقی حصے میں پھیلے دو ہزار امریکی فوجیوں کے مکمل اور حتمی انخلا کا اچانک اعلان کر دیا۔ اس اقدام نے وزیر دفاع جیم میٹس کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔البتہ کانگریس اور پینٹاگون کے دبا پر ٹرمپ نے اس علاقے میں 200 کے قریب امریکی فوجی باقی رکھنے کا فیصلہ کیا جہاں شامی حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔مذکورہ امریکی فوجیوں کو باقی رکھنے کا مقصد شامی کرد جنجگوں کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ یورپی ممالک کو اندیشہ ہے کہ اگر ترکی نے کرد جنگجوؤں(جن کو وہ دہشت گرد شمار کرتا ہے)کے خلاف عسکری آپریشن کیا تو یہ ممالک خود کو مشکل صورت حال میں پائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…